کوشش رہی کہ آئین اور پارلیمان کی بالادستی پرسمجھوتا نہ کروں،چیئرمین سینیٹ

اسلام آباد: 

چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ  میری کوشش رہی کہ اصولوں،آئین اور پارلیمان کی بالادستی پرسمجھوتانہ کروں.

بطور چیئرمین  سینیٹ اپنے الوداعی خطاب میں میاں رضاربانی  نے تمام سینیٹر ز اور پارلیمانی لیڈرز کے تعاون کرنے اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی میں حصہ لینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ  12مارچ 2015 کو حلف اٹھایا تھا تو سب سے پہلے اثاثے سامنے رکھے، میرا وعدہ تھا جب منصب سے ہٹوں گا تو پھر دوبارہ اثاثے بتاؤں گا آج سیاسی طور پر ادنیٰ سیاسی کارکن کے جس مقام پر ہوں اس میں دو خواتین شامل ہیں ایک میری والدہ اور دوسری سیاسی ماں بینظیربھٹو۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں درویش آدمی ہوں جس نے خودی کو مارنے کی کوشش کی ہے،منصب آنے جانے ہوتے ہیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بات پر یقین رکھتا ہوں کہ گردن کٹوا لو لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرو،مجھے اس بات پر فخر ہوگا اگر میرا نام ان اسپیکروں میں شامل ہو جنہوں نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے سر نہیں جھکایا۔

رضا ربانی نے کہا کہ سیکریٹری سینیٹ نے احسن طریقے سے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے میں میری معاونت کی ان کا شکرگزار ہوں۔ میں اعتزازاحسن کا شکرگزار ہوں،جنہوں نے میری معاونت کی، میں شکرگزار ہوں راجاظفر الحق کاجنہوں نے ہر قدم پرسپورٹ کی، جس جس نےمجھے ایوان کو چلانے میں مدد کی ان سب کا شکرگزارہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان اور سیکریٹریٹ کو ایک مشترکہ قیادت کے طور پر چلایا،سینیٹ آف پاکستان کے پہلےہاؤس نے سروس رولز کو ایکٹ میں تبدیل کیا جب کہ عملی طور پر ان اختیارات کو ہاؤس بزنس کمیٹی کو منتقل کیا۔

Comments
Loading...