چاول کی برآمدات میں جولائی تا فروری 27 فیصد اضافہ

چاول کی برآمدات میں گزشتہ ماہ نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ پاکستان سے رواں مالی سال کے ابتدائی 8ماہ (جولائی تافروری) میں 1ارب22 کروڑ ڈالر کا 25 لاکھ91ہزار میٹرک ٹن چاول برآمد کیاجا چکا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 961 ملین ڈالر کے 22 لاکھ71ہزار میٹرک ٹن چاول کی برآمدات سے مالیت میں27 فیصد اور مقدار میں 14 فیصد زیادہ ہے۔

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار رفیق سلیمان نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے چاول کی بر آمدات خاص طورپر باسمتی چاول کی ایکسپورٹ شدید بحران کا شکار تھی اب ایسوسی ایشن کے ممبرز کی مسلسل اور انتھک محنت سے ہم اس بحران سے نکل چکے ہیں، رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان، ٹریڈ ڈیولمپنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے پی) اور کسٹمزعہدیداروں کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے چاول کی برآمدی مالیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور چاول کے ممتاز بر آمد کنندگان پاکستانی چاول کے لیے نئی مارکیٹوں کی تلاش کے مقصد سے دنیا کے کئی ممالک کا تجارتی وفود کی شکل میں دورہ کر رہے ہیں، اس سلسلے میں ایسوسی ایشن کااہم تجارتی وفد چیئرمین چوہدری سمیع اللہ کی قیادت میں رواں ماہ ماریشس کا دورہ کر رہا ہے۔

آئندہ ماہ ایک وفد جنوبی امریکا کے اہم ممالک برازیل، ارجنٹائن اور چلی کا بھی دورہ کرے گا تاکہ ان ممالک کی مارکیٹوں میں پاکستانی چاول متعارف کرایا جاسکے اور پاکستانی چاول کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکے، اس کے علاوہ ایک تجارتی وفد آئندہ ماہ سعو دی عرب کا بھی دورہ کرے گا جو باسمتی چاول کی بہت بڑی مارکیٹ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایسوسی ایشن نے متحدہ عرب امارات میں گلف فوڈ کے دوران بین الاقوامی ایوارڈ تقریب کا اہتمام کیا تھا، عرب امارات کو پاکستانی چاول کی برآمدات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے اور گزشتہ 8 ماہ میں 1لاکھ 6 ہزار ٹن چاول برآمد ہوچکا ہے جس کی مالیت 67ملین ڈالر ہے۔

رفیق سلیمان نے کہا کہ کینیا پاکستانی نان باسمتی چاول کا سب سے بڑا خریدار ہے جہاں ہم نے 118 ملین ڈالر کا 3 لاکھ23 ہزار ٹن چاول برآمد کیا، چین پاکستانی چاول کا دوسرا بڑا خریدار ہے اور گزشتہ 8 ماہ میں 2لاکھ 33ہزار ٹن چاول بر آمد ہوچکاہے جس کی مالیت 83ملین ڈالر ہے۔

انہوں نے وزارت تجارت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آزادتجارتی معاہدے کے دوسرے مر حلے کے مذاکرات میں وزارت تجارت کی کوششوں سے پاکستانی چاول کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل ہونے کی امید ہے جس کا اطلاق آئندہ مالی سال سے شروع ہو گا جس سے پاکستانی چاول کی چین کو برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔

Comments
Loading...