Official Web

قاتل کے اہلخانہ بھی جرم میں شریک :وزیر اعلی نے ہمارے آنسوﺅں پر تالیاں بجوائیں، مائیک بند کر دیا،والد زینب ملزم نے زینب کو 5 دن اپنے گھر میں رکھنے کا اعتراف کیا، کیسے ممکن ہے گھر والوں کو بچی کے بارے میں علم نہ ہو،جن لوگوں نے اسے گھر میں چھپانے میں مدد کی وہ بھی ملزم ہیں

قاتل کے اہلخانہ بھی جرم میں شریک :وزیر اعلی نے ہمارے آنسوﺅں پر تالیاں بجوائیں، مائیک بند کر دیا،والد زینب ملزم نے زینب کو 5 دن اپنے گھر میں رکھنے کا اعتراف کیا، کیسے ممکن ہے گھر والوں کو بچی کے بارے میں علم نہ ہو،جن لوگوں نے اسے گھر میں چھپانے میں مدد کی وہ بھی ملزم ہیں

میں اپنے مطالبات بتانے لگاتو اس وقت شہباز شریف نے دونوں مائیکس بند کر دیئے، سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا جائے ¾ ملزم کو سر عام سزائے موت ، سنگسار کر نے کا مطالبہ
چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتی ہوں آج سے ہی ملزم کی سزا کا آغاز کیا جائے،ظالم جن ہاتھوں سے معصوموں کے گلے دباتا رہا وہ ہاتھ ہی کاٹ دیے جائیں، والدہ زینب

قصور (این این آئی)قصور میں قتل ہونے والی ننھی زینب کے والدین نے ملزم کو سرعام سزائے موت اور سنگ سار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دیگر سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کردیا۔پولیس نے گزشتہ روز زینب کے قاتل عمران علی کی گرفتاری ظاہر کی جس کا باضابطہ اعلان وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کیا۔ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے زینب کے والدین نے ملزم کو سرعام سزائے موت دینے اور سنگسار کرنے کا مطالبہ کیا۔زینب کے والد محمد امین نے کہا کہ ملزم نے زینب کو 5 دن اپنے گھر میں رکھنے کا اعتراف کیا، کیسے ممکن ہے کہ عمران کے اہلخانہ کو زینب کے بارے میں علم نہ ہو۔محمد امین نے کہاکہ گرفتار عمران زینب کے قتل میں اکیلا ملوث نہیں ¾اس کے گھر والے بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں اور جن لوگوں نے بچی کو گھر میں چھپانے میں مدد کی وہ بھی ملزم ہیں۔ زینب کے والد نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پریس کانفرنس کے دوران ہمارے غم اور آنسوو¿ں پر تالیاں بجائیں۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے زینب کے والدین نے گزشتہ روز ملزم کی گرفتاری کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے پریس کانفرنس میں تالیاں بجانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اپنی بچی کے غم میں تڑپ رہے ہیں اور آنسو بہا رہے ہیں تاہم پریس کانفرنس میں موجود شرکا نے اسی تڑپ اور آنسوو¿ں پر تالیاں بجائیں۔کم سن زینب کے والد محمد امین نے کہاکہ ملزم کے گھر والے سب کچھ جانتے تھے، جنہوں نے ملزم کو چھپائے رکھا جبکہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص نے بچی کو اتنے چھوٹے گھر میں 5 دن تک رکھا اور بعد میں قتل کیا لیکن گھر میں موجود کسی کو بھی معصوم کی چیخ سنائی نہیں دی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کے گھر والے بھی اس جرم میں برابر کے ملوث ہیں انہیں بھی اس قتل میں شامل تفتیش کیا جانا چاہیے۔محمد امین نے شہباز شریف پر زبردستی مائک بند کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جیسے ہی اپنے مطالبات بتانے لگے تو اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کے سامنے موجود دونوں مائیکس بند کر دیئے۔دوسری جانب مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ ملزم کو تو گرفتار کر لیا گیا لیکن چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ آج سے ہی ملزم کی سزا کا آغاز کیا جائے اور وہ ظالم جن ہاتھوں سے معصوموں کے گلے دباتا رہا وہ ہاتھ ہی کاٹ دیے جائیں۔ امین انصاری نے کہا ہے کہ ملزم ان کی بیٹی کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گیا کہ وہ اسے اس کے والدین سے ملوانے لے جارہا ہے۔زینب کے والد نے کہا کہ ملزم عمران کو جب معلوم ہوا کہ زینب کے والدین ملک میں نہیں ہیں تو اس نے اس گھناو¿نے فعل کو انجام دینے کےلئے موقع کا فائدہ اٹھایا۔امین انصاری نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو یہ نصیحت کررکھی ہے کہ وہ کسی اجنبی شخص کے ساتھ باہر نہ جائیں۔زینب کے والد نے والدین کو پیغام دیا کہ وہ اپنے بچوں کا خیال کریں تاکہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا شکار نہ ہوں۔
والد ین زینب

Comments
Loading...