کرنل انعام کیس؛ کیا سوچے سمجھے بغیر کسی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے؟ سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کرنل انعام کیس میں آرمی ایکٹ اور ضابطہ فوجداری سے متعلق عدالتی سوالات کے جواب دینے کےلیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو تین ہفتے کا وقت دیدیا۔

سپریم کورٹ میں کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی رہائی کے حکم کیخلاف حکومتی اپیل پر سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کرنل انعام کو رہا کر دیا ہے لیکن وہ زیر تفتیش ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ کرنل انعام ریٹائرڈ ہیں ان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوتا ہے؟، انہیں عدالتی حکم پر رہا نہیں کیا گیا، ان پر فوج نے سنگین الزامات لگائے پھر خود ہی رہا کر دیا، کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے؟۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے کرنل (ر) انعام الرحیم کی رہائی کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے کہا کہ کرنل انعام کی رہائی کی وجوہات الگ ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ وجوہات کوئی بھی ہوں بات سنگین الزامات کی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، اس کے کورٹ مارشل کیلئے آئینی ترمیم درکار ہوگی، کرنل انعام کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا، سول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل فوجی افسران کا بھی نہیں ہوسکتا، سول نوعیت کا جرم عام آدمی کرے یا فوجی، اس کا ٹرائل فوجداری عدالت کریگی جسے اختیار ہے کہ سول جرم میں جاری کورٹ مارشل کو روک سکے، کمانڈنگ آفیسر نے دلیل کیساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کورٹ مارشل ہونا ہے یا کیس عدالت میں جانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے کرنل (ر) انعام الرحیم کی رہائی کا حکم معطل کردیا

ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع برگیڈیئر فلک ناز نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو عدالت نے انہیں بات کرنے سے روک دیا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپکی نمائندگی کیلئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل موجود ہیں، اجازت کے بغیر آپ عدالت کو مخاطب نہیں کر سکتے ، بات کرنے سے پہلے عدالت اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے اجازت لیں، عدالت خود آپ سے کچھ پوچھے تو ہی آپ جواب دے سکتے ہیں، آپکا کام ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی معاونت کرنا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ چکا ہے، جو نکات عدالت نے اٹھائے ہیں ان کے جواب کیلئے وقت درکار ہے، متعلقہ حکام سے ہدایات لیکر عدالتی سوالات کے جواب دوں گا۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے تین ہفتے کا وقت دیدیا او ہدایت کی کہ آرمی ایکٹ کی دفعہ 94,95 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 549 پر تیاری کرکے آئیں، سویلین کے کورٹ مارشل سے متعلق نکتے پر بھی معاونت کریں۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت تین ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ لاہورہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے لاپتہ افراد کے وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور اس فیصلے کو حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ حکومت نے ان پر آرمی آفیشل ایکٹ کی خلاف ورزی اور جاسوسی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ کرنل انعام کو حراست سے رہا کیا جاچکا ہے۔

Comments
Loading...