حالات ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کررہے ہیں، خالد مقبول صدیقی

راچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ حالات ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کررہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہری اپنے حقوق کے لیے رو رہے ہیں، ہم 50 سال سے کوٹہ سسٹم اور دیگر پابندیوں کی زد میں ہیں، قومیت کے نام پر سندھ کو برباد کیا گیا، تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کردیے گئے ہیں، سندھ میں سفارشی ٹولے ہیں یہاں میرٹ کا قتل ہورہا ہے، میرٹ کے نام پر نااہل اور بدعنوان لوگوں کو تعینات کیا جاتا ہے، پولیس، ڈاکٹر یا پھر ٹیچر ہو وہاں بھرتی کرکے یہاں ٹرانسفر کردیا جاتا ہے، شہر قائد میں چور اور سپاہی دونوں کا تعلق اس شہر سے نہیں ہے، لاڑکانہ سے 75 پولیس والوں کو بلالیا گیا ہے، کچھ دن کے لیے ان تبادلوں کو روک دیا گیا ہے۔

کنوینر ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ میرٹ کے نام پر اداروں کو بدعنوان، بے ایمان اور نااہل لوگوں کے حوالے کردیا گیا ہے، یہاں سے پاس ہونے والے ملک بھر میں نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہوں گے، میرٹ کو جانچنے والے اداروں میں سب سے زیادہ کرپشن ہے، سندھ پبلک سروس کمیشن میں کون لوگ بیٹھے ہیں، ان کا ڈومیسائل کہاں کا ہے اور ان کی سیاسی وابستگیاں کس سے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وفاق کب تک خاموش رہے گا، ریاست سے سوال ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کو انصاف کون دے گا؟ ، کراچی کی تباہی میں کس کا ہاتھ ہے؟ کراچی کی نمائندہ جماعت ہونے کے باوجود ہمارے دفاتر بند ہیں، کارکنان گرفتار یا پھر لاپتہ ہیں،ہمارے فلاحی ادارے کو بند کردیا گیا ہے، ایوانوں اور عدالتوں میں بھی کوئی شنوائی نہیں ہورہی، کیا ہم اجتماعی خود کشیاں کرلیں، اگر ایوان بے اثر ہوگئے ہیں تو ہم سڑکوں پر آکر پوری دنیا کو ناانصافی سے آگاہ کریں گے، ہمیں گرفتار کرنا ہے تو کرلیں، حالات کی ساری ذمے داری سندھ کی بدعنوان اور نسل پرست حکومت کی ہوگی، حالات ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کررہے ہیں۔

Comments
Loading...