جہانگیر ترین چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے برطرف

اکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما جہانگیر خان ترین کو آٹا و چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی اور آٹا بحران کے بارے میں رپورٹ آنے کے بعد جہانگیر ترین کو عہدے سے ہٹایا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف مزید کارروائی چینی و آٹا بحران انکوائری کمیشن کی سفارشات کے بعد ہوگی۔

اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق ترجمان برائے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز گل نے ٹوئٹ کی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ جہانگیر ترین کو چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔

Dr. Shahbaz GiLL

@SHABAZGIL

Mr. Jahangir Khan Tareen has been removed as Chair of Task Force on Agriculture in light of findings of Sugar and Wheat Inquiry Report. Any further action may be taken after final findings of the Inquiry Committee

2,265 people are talking about this

میں کبھی کسی ٹاسک فورس کا چیئرمین نہیں رہا، جہانگیر ترین

دوسری جانب جہانگیر ترین نے یہ خبر سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ خبر بالکل بھی درست نہیں۔

Jahangir Khan Tareen

@JahangirKTareen

Hello hello, News bring reported that I have been “removed” as C’man Agri Task Force ….I was never chairman of any task force . Can anyone show me a notification with me as C’man ??
Pl get your facts right people

2,399 people are talking about this

انہوں نے کہا کہ ‘میں کبھی کسی ٹاسک فورس کا چیئرمین رہا ہی نہیں، کوئی مجھے وہ نوٹیفکیشن دکھا سکتا ہے جس میں میری چیئرمین تعیناتی کا ذکر ہو؟ برائے مہربانی اپنی معلومات درست کرلیں’۔

قبل ازیں اپنے ایک اور بیان میں جہانگیر ترین نے بتایا کہ ‘میں شوگر انکوائری کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کررہا ہوں، کمیشن میری تین ملز سمیت 10 شوگر ملز کے حوالے سے تحقیقات میں مصروف ہے، ہم سے جو ریکارڈز مانگے جارہے ہیں وہ ہم دے رہے ہیں اور ہم نے اپنے سرور تک بھی رسائی دے دی ہے’۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ ابھی تک کوئی بھی چیز ضبط نہیں کی گئی کیوں کہ ہم تمام مطالبات پورے کررہے ہیں، ہمارے پاس چھپانے کو کچھ نہیں۔

Jahangir Khan Tareen

@JahangirKTareen

The sugar inquiry commission has been actively engaging with about 10 mills, including 3 of mine . We are sharing all records asked for. We have given free access even to our server. Nothing has been seized as we are fulfilling all requests
We have nothing to hide .

1,678 people are talking about this

خیال رہے کہ 4 اپریل کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے آٹا و چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی آٹا بحران کی اہم وجہ رہی۔

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ملک میں گندم اور چینی کے بحران کے باعث ان کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں۔

وزیراعظم عمران خان نے معاملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو ذمہ داری سونپی تھی۔

ایف آئی اے نے وزیراعظم کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی ہے جس میں تحریک انصاف کے رہنماجہانگیر ترین،وفاقی وزیرخسرو بختیار کے بھائی اورحکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی سمیت شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کا نام بھی شامل ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ سطح کے کمیشن کی جانب سے مفصل فرانزک آڈٹ کا انتظار کررہے ہیں جو 25 اپریل تک کرلیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد کوئی بھی طاقتور گروہ (لابی) عوامی مفادات کا خون کر کے منافع سمیٹنے کے قابل نہیں رہے گا۔

Comments
Loading...