آٹزم کے شکار بچے ’مائن کرافٹ‘ گیم سے نئے دوست بناسکتے ہیں

ٹورانٹو: ٹزم کے شکار بچے عموماً الگ تھلگ رہنا پسند کرتے ہیں اور دوست نہیں بناتے۔ لیکن عمارت اور مںصوبہ بندی کے مشہور گیم ’مائن کرافٹ‘ اس ضمن میں بچوں کی مدد کرسکتا ہے اور ایسے بچے ہم عمروں کو دوست بناسکتے ہیں۔

اگرچہ گیم کھیلنے کا عمل خود بھی کوئی بڑی سماجی سرگرمی نہیں لیکن اب آٹزم کے شکار بچے اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور ہزاروں بچے اس کیفیت سے باہر آکر نارمل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

کینیڈا کے گیم ڈویلپر، اسٹوارٹ ڈنکن نے مائن کرافٹ کا ایک ورژن بچوں کے لیے بنایا ہے کیونکہ وہ خود بھی اس کیفیت کے شکار رہے ہیں۔ 2013 میں انہوں نے ایک سرور پر آٹزم میں مبتلا بچوں اور ان کے والدین کے لیے یہ گیم تیار کیا جو دعوت کے تحت کام کرتا تھا۔ لیکن خلافِ توقع سینکڑوں ہزاروں بچوں اور ان کے والدین نے اس میں دلچسپی لی۔
اب سات ہزار بچے یہ گیم کھیل ہے ہیں والدین بہت مسرور ہیں کیونکہ یہ گیم حقیقی دنیا کےدباؤ اور انتشار سےتوجہ ہٹاتا ہے۔ بچے مائن کرافٹ میں جاکر ایک دوسرے سےبات کرتے اور دوست بن جاتے ہیں۔ اس طرح باہمی سماجی تعلق پروان چڑھتا ہے جو حقیقی زندگی میں بھی نظرآتا ہے۔

گیم کی بدولت لوگ ایک دوسرے کو معاشرتی اور سماجی کام بھی سمجھاتے ہیں۔ مائن کرافٹ میں مخصوص بلاک کو جوڑ کر پیچیدہ شہروں سے لے کر سادہ کمپیوٹر تک بنائے جاتے ہیں۔ اس سے بچے مل جل کر اشیا بنارہے ہیں اور کسی سماجی دباؤ کی بنا ورچول یا گیم کے ماحول میں ہی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

اس طرح مائن کرافٹ کا آٹزم ورژن نہ صرف بچوں کو ایک دوسرے کے قریب لارہا ہے بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی مدد فراہم کررہا ہے۔

Comments
Loading...