پی ٹی آئی کی درخواستیں مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد: فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کی درخواستیں مسترد کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ 

تحریک انصاف کے منحرف رہنما اکبر ایس بابر کو ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی سے الگ کرنے کی درخواست الیکشن کمیشن سے مسترد کرنے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

تحریک انصاف نے 25 جنوری اور 31 جنوری کو دائر کی گئی درخواستوں کو مسترد کرنے کے فیصلہ چیلنج کیا ہے، جب کہ اکبر ایس بابر کو اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ پر پی ٹی آئی کا جواب فراہم نہ کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ بھی چیلنج کیا گیا ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مسترد کی گئی دونوں درخواستوں کو منظور کیا جائے۔

درخواست میں مؤقف پیش کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے دونوں درخواستیں مسترد کیں، 15 مارچ 2022 کا آرڈر کاالعدم قرار دیا جائے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کورٹ آف لا نہیں، ایڈمنسٹریٹو اتھارٹی ہے، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواستیں مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا تھا، فنڈز کی تفصیلات صرف الیکشن کمیشن کو بتانے کے پابند ہیں ،  اکبر ایس بابر کو کیس سے الگ کیا جائے۔ پی ٹی آئی نے درخواست کی ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ پر پی ٹی آئی کا جواب اکبر ایس بابر کو ابھی نہ دیا جائے۔

واضح رہے کہ ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، فارن فنڈنگ کیس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست نمٹا دی گئی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے 29 جنوری 2018 کو معاملہ واپس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

Comments
Loading...