جدہ میں تیل کی ترسیل کے اہم اسٹیشن پر حوثی باغیوں کا حملہ

جدہ: سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک آئل ڈپو میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جبکہ یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آگ ان کے کیے گئے حملوں میں سے ایک کی وجہ سے بھڑکی۔

سعودی حکومت کی جانب تصدیق کی گئی ہےکہ حوثی باغیوں کے ایک حملے کے نتیجے میں آئل ڈپو میں آگ بھڑکی۔ حالیہ دنوں میں حوثی باغیوں نے اس آئل ڈپو کو پہلے بھی نشانہ بنایا ہے۔

خیال رہے کہ یہ واقعہ ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب جدہ میں تاریخ میں دوسری بار سعودی عریبین گراں پری فارمولہ ون ریس کا آغاز اتوار سے ہونے والا ہے۔

گراں پری کی کوریج کیلئے جدہ میں موجودہ اے پی کے ایک فوٹو جرنلسٹ نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجکر 40 منٹ پر فضا میں دھوئیں کے گہرے سیاہ بادل اٹھنا شروع ہوئے جو کہ 7 میل دور سے بھی دیکھے جاسکتے تھے۔

حوثی باغیوں کے زیر انتظام چلائے جانے والے سیٹلائٹ ٹی وی چینل پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ باغیوں نے جدہ میں آرامکو کی تیل تنصبیب کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ ریاض اور دیگر شہروں پر بھی حملے کیے گئے ہیں جن کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اس معاملے پر سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی نے الظہران میں پانی کے ٹینکس پر حملے کی تصدیق کی جس کے نتیجے میں کچھ گاڑیوں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ یمنی سرحد کے قریب سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے میں بھی الیکٹرکل سب اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔

سعودی گزٹ نے آرامکو کے جدہ ڈسٹریبیوشن اسٹیشن پر حوثی باغیوں کے حملے کی تصدیق کی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ حملے سے جدہ میں معمول کی سرگرمیوں پر کوئی اثر  نہیں پڑا۔

خیال رہے کہ جدہ کے جس آئل ڈپو پر آگ بھڑکی اس کا نام نارتھ جدہ بلک پلانٹ ہے اور یہاں ڈیزل، پیٹرول اور طیاروں کا ایندھن ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ یہاں سے سعودی عرب کی تیل کی کل سپلائی کا ایک چوتھائی حصہ اسی ڈپو سے فراہم کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل بھی حوثی باغی دو بار اس ڈپو پر کروز میزائل سے حملے کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ پہلا حملہ نومبر 2020 جبکہ دوسرا گزشتہ اتوار کو کیا گیا تھا۔

Comments
Loading...