شوگر سیکٹر پر ٹریک سسٹم سے ساڑھے 26 ارب ٹیکس وصول

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کا کہنا ہے کہ شوگر سیکٹر پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے کامیاب نفاذ کے ذریعے ساڑھے 26 ارب روپے سیلز ٹیکس وصول ہوا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کا کہنا ہے کہ موجودہ کرشنگ سیزن کے دوران شوگر سیکٹر پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے کامیاب نفاذ کے ذریعے کرشنگ سیزن کی پہلے 4 ماہ (دسمبر2021تا مارچ 2022 ) کے دوران مجموعی طور پر ساڑھے چھبیس ارب روپے سیلز ٹیکس وصول ہوا جو کہ گزشتہ کرشنگ سیزن کے اسی عرصے کے دوران جمع ہونے والے19 ارب نوے کروڑ روپے کے سیلز ٹیکس کے مقابلے میں 33 فیصد اضافے کے ساتھ 6 اعشاریہ 59 ارب روپے زیادہ ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق موجودہ کرشنگ سیزن کے دوران شوگر سیکٹر پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے کامیاب نفاذ کے ذریعے ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ، چینی کی پیداوار کا جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم ایسی 79 شوگر ملوں پر کامیابی سے لاگو کیا گیا جن کی ملک بھر میں موجود پیداواری لائنوں کی تعداد 151 ہے۔

پیداوار کی شفاف الیکٹرانک مانیٹرنگ کی وجہ سے تمام شوگر ملوں کو موجودہ کرشنگ سیزن کے دوران اپنی اصل کرشنگ اور پیداوار کا اعلان کرنا پڑا  لہذا اس ڈیجیٹل مداخلت کے نتیجے میں شوگر ملوں نے ریکارڈ تعداد میں اعلیٰ چینی یعنی 24 مارچ 2022 تک 7.51 ملین ٹن چینی کی پیداوار ہوئی جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ کرشنگ سیزن کے دوران 5.63 ملین ٹن پیداوار ہوئی تھی ، موجودہ سیزن کے اعدادوشمار پیداوار میں گزشتہ سیزن کی نسبت 34 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔

اعداد وشمار کے مطابق امسال کرشنگ سیزن میں جمع ہونیوالا سیلز ٹیکس گزشتہ سال اسی سیزن کے مقابلے میں 33 فیصد اضافے کے ساتھ 6 اعشاریہ 59 ارب روپے زیادہ وصول ہوا اس کے علاوہ ایف بی آر کے شعبے ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک ( آئی آر ای این ) نے انسداد ٹیکس چوری مہم کے دوران ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے ملک بھر کی مختلف مارکیٹوں میں 60 سے زائد چھاپے مارے ، ان کارروائیوں کے دوران ایف بی آر حکام نے قانون اور طریقہ کار کے مطابق ایسے بغیر مہر والے تھیلے قبضے میں لے لئے جو ٹیکس کی مہر کے بغیر فروخت کئے جا رہے تھے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر و سیکرٹری ریونیو ڈویژن ڈاکٹرمحمد اشفاق احمد نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے کامیاب نفاذ پر سراہا۔

Comments
Loading...