30 سے 31 مارچ تک آریا پار اورعدم اعتماد کا فیصلہ ہوجائے گا، وزیرداخلہ

اسلام آباد: وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ 30 سے 31 مارچ تک عدم اعتماد کا فیصلہ ہوجائے گا، جب کہ  72 گھنٹے میں سب واضح ہوجائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ابھی تک اطلاع نہیں کہ تحریک عدم اعتماد آج پیش ہو رہی ہے، 31 مارچ تک آر یا پار ہو جائے گا اور عدم اعتماد کا فیصلہ آجائے گا، 72 گھنٹوں کا ٹائم دیتا ہوں کہ اہم ہیں، اس دوران جہاں فیصلے ہونے ہیں ہو جائیں گے، سیاسی تجزیہ ہے ایک گھنٹہ پہلے بھی صورتحال بدل سکتی ہے، ابھی جلسہ جلسہ ہے کھیل کل سے شروع ہوگا، میں نے کسی حکومت کو وقت پورا کرتے نہیں دیکھا، واضح کردوں کہ عمران خان آخری بال تک کھیلیں گے، میں نے اپنی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا لیکن عمران خان کے ساتھ  کھڑا ہوں اور جو ان کے ساتھ کھڑا وہ بکاؤ مال ہے، عمران خان کی سیاست ختم نہیں ہوگی۔

شیخ رشید نے کہا کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کا بہترین جلسہ ہوا، بلاول کی ریلی سے زیادہ ہماری سیکیورٹی تھی، گزشتہ روز کے جلسے کے بعد لوگوں کی آنکھیں کھلنی چاہیے، 1977 کے بعد پہلی دفعہ میں جلوس کے ساتھ تھا، گزشتہ روز انتظامیہ نے اچھا کام کیا، وزیراعظم عمران خان کی خواہش تھی میں لمبی تقریرکروں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ  پاکستان میں بھٹو خاندان کی سیاست نہیں ہے، اب زرداری کی سیاست چل رہی ہے، آصف زرداری شاطر اور پلانر سیاستدان ہیں، خرید و فروخت میں لگے ہیں، سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کاسلسلہ جاری ہے، یہ گینگ آف تھری ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ نہیں تھے، آصف زرداری نوابشاہ میں کونسلر نہیں بن سکے، جو خرید و فروخت کرتے ہیں علاقے کے لوگوں کو ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، گورنر راج کی تجویز دی آج بھی کہہ رہا ہوں گورنر راج لگادو۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں پتہ (ن) لیگ نے کدھر سے آنا ہے انہوں نے ابھی تک ہمیں کچھ نہیں بتایا، ن لیگ کے جلسے میری توقع سے زیادہ کمزور ہیں، ان کے پاس اپنے لوگ نہیں، یہ لوگ مولویوں سے خطاب کرنے آرہے ہیں، مولانا فضل الرحمان کے مدرسوں میں چھٹیاں ہیں، آج ن لیگ کوجلسہ کرنے کی اجازت ہے دھرنے کی نہیں، میں تصادم نہیں چاہتا جے یو آئی کا جلسہ ختم ہوگیا ہے، وہ آج بغیر اجازت بیٹھی ہے، آج کا دن ہے وہ گزر جائے باقی اسمبلی کے باہر صورتحال ہم ذمہ دار ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ صرف پاکستان کے ساتھ ہے،  میں آئندہ انتخابات لڑوں یا نہ لڑوں ابھی فیصلہ نہیں کیا، میرا مقصد نالہ لئی ایکسپریس وے ہے،غریب بستیاں امیر ہو جائیں،  میرا نام شیخ رشید ہے،کوئی حملہ آور ہو میں اسے معاف نہیں کرتا، 2018 کے انتخاب بھی نواز شریف نے چیلنج کیا تو لڑا تھا، مجھے خط کا علم نہیں ہے، رات کو پتہ چلا ہے جب شاہ محمود قریشی نے خط کی بات کی۔

Comments
Loading...