الٹرا ساؤنڈ سے گردوں کی پتھری ختم کرنے کے تجربات کامیاب

سیاٹل: امریکی ماہرین نے الٹرا ساؤنڈ لہروں سے گردوں کی پتھری توڑنے کے کامیاب تجربات انجام دیئے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی جسے ’’برسٹ ویو لیتھوٹرپسی‘‘ (بی ڈبلیو ایل) کہا جاتا ہے، کچھ سال قبل یونیورسٹی آف واشنگٹن، سیاٹل کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایجاد کی تھی جسے نئے تجربات میں 19 رضاکاروں پر آزمایا گیا ہے۔

تمام رضاکاروں کے گردوں میں پتھریاں تھیں جن کی جسامت 12 ملی میٹر یا اس سے کچھ زیادہ تھی۔

ان تجربات کے دوران الٹراساؤنڈ لہروں کو گردے میں ہر پتھری پر تقریباً دس منٹ تک مرکوز رکھا گیا۔

اس مختصر سے وقت میں پتھریوں کا 90 فیصد حجم ٹوٹ کر 2 ملی میٹر یا اس سے بھی چھوٹی جسامت والی پتھریوں میں تقسیم ہوگیا جبکہ 39 فیصد پتھریاں مکمل طور پر تحلیل ہوگئیں۔

الٹراساؤنڈ سے پتھریاں ختم کرنے کے اس آپریشن میں اکثر مریضوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ البتہ آپریشن کے بعد ان کے پیشاب میں کچھ دیر کےلیے تھوڑا سا خون ضرور آیا۔ اس کے علاوہ رضاکاروں میں اور کوئی ضمنی اثر نہیں دیکھا گیا۔

آپریشن کے دوران مریضوں کو ہونے والی تکلیف اس قدر کم تھی کہ انہیں بے ہوش کرنے یا متاثرہ مقام کو سُن کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔

مرتکز الٹراساؤنڈ لہروں کی مدد سے گردوں کی پتھری کا خاتمہ کرنے والی یہ ٹیکنالوجی مستقبل قریب میں مزید بہتر ہو کر ایک نئے، کم خرچ اور منفرد علاج کی بنیاد بن سکے گی، جس سے مریض کو تکلیف کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

نوٹ: اس تحقیق کی تفصیل ’’دی جرنل آف یورولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

Comments
Loading...