امریکی سفارتکار کی وزارت خارجہ طلبی، اندرونی معاملات میں مداخلت پر شدید احتجاج

اسلام آباد:  حکومت پاکستان نے سینئر امریکی سفارتکار کو وزارت خارجہ طلب کر کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر شدید احتجاج کیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت کو امریکی دھمکی کے معاملے پر وزارت خارجہ حکام نے امریکی سفارتکار کو احتجاجی مراسلہ تھمایا، احتجاجی مراسلے میں امریکی حکومت سے پاکستانی داخلی معاملات میں عالمی قوانین اور سفارتی آداب کے منافی مداخلت پر شدید احتجاج کیا گیا۔ امریکی سفارتکار کو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کی روشنی میں طلب کیا گیا۔

گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا 37 واں اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں دفاع، توانائی، اطلاعات و نشریات، داخلہ، خزانہ، انسانی حقوق، منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وفاقی وزراء، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی چیف سمیت سروسز چیفس، قومی سلامتی کے مشیر اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں قومی سلامتی مشیر نے کمیٹی کو خط پر بریفنگ دی تھی، کمیٹی نے خط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کے اندورنی معاملات میں مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیا، حکومت نے خط کا بھرپور جواب دینے کا بھی فیصلہ کیا تھا جس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے امریکا  کا نام لے لیا

گذشتہ روز عمران خان نے قوم سے براہ راست خطاب کیا اور اس دوران انہوں نے خارجہ پالیسی پر بات کی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا میں آج آپ کے پاس یہ ساری بات کرنے کے لیے اس لیے آیا ہوں کہ ابھی ہمیں 8 مارچ یا اس سے پہلے 7 مارچ کو ہمیں امریکا نے، امریکا نہیں باہر سے ملک سے، مطلب کسی اور ملک سے پیغام آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس لیے پیغام کی بات کر رہا ہوں اور اسی لیے براہ راست کر رہا ہوں، یہ ایک کسی آزاد ملک کے لیے جس طرح کا ہمیں پیغام آیا ہے، یہ ہے تو وزیراعظم کے خلاف ہے لیکن دراصل یہ ہماری قوم کے خلاف ہے۔

Comments
Loading...