روحانی تربیت ہارٹ فیل اور سرطان کے مریضوں کی نئی امید بن سکتی ہے

نارتھ کیرولینا: ماہرین کا ایک بڑا طبقہ اب اس موضوع کو سائنس کے دائرے میں لے کر آرہا ہے جسے سائنس کا مخالف سمجھا جاتا رہا تھا اور وہ ہے روحانیت یا روحانی تجربات۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خدا پر بھروسہ روحانیت بہت سے امراض میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اب ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہارٹ فیل یا دل کی بتدریج کمزوری کے شکار افراد میں روحانیت معیارِ زندگی بڑھا سکتی ہے۔

جے ای سی سی ہارٹ فیلیئر نامی ایک جرنل میں ایک تجزیاتی (سنتھے سز) رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روحانیت سے ہارٹ فیل میں مبتلا مریضوں کا معیارِ زندگی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ روحانی عمل کو ایسے مریضوں کے علاج کا حصہ بنا کر انفرادی مریضوں کے لیے بہت فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

ڈیوک یونیورسٹی ہسپتال کی ڈاکٹر ریشل ایس ٹوبن نے کہا ہے کہ ہارٹ فیل کے مریضوں کی زندگی دیگر افراد کے مقابلے میں بہت مشکل ہوسکتی ہے کیونکہ دل میں خون پمپ کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ مریض ناامید ہوجاتے ہیں، تنہائی پسند ہوجاتے ہیں اور خود اپنی نظروں میں بے وقعت ہونے لگتے ہیں۔

 

یہی وجہ ہے کہ امریکی کالج برائے کارڈیالوجی کے ماہرین ایک عرصے سے کہہ رہے کہ دل کے مریضوں کو ان کے دینی عقائد کے لحاظ سے اللہ سے امید دلائی جائے۔ اس سے انہیں ڈھارس اور امید پیدا ہوتی ہے۔ تاہم اس ضمن میں تحقیق کا فقدان ہے اور دوسری جانب روحانیت ناپنے کا کوئی پیمانہ بھی ہمارے پاس موجود نہیں۔

سائنسدانوں نے مطابق روحانی تجربات اور واقعات بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کونسا شخص روحانی طور پر کتنا باشعور اور مضبوط ہے۔ سائنسداں اسے بھی سائنسی پیمانوں پر ناپنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت ہمارے پاس اس کا کوئی معیار موجود نہیں۔

تاہم تجزیاتی تحقیق میں کل 47 تحقیقی مقالات اور سروے کا جائزہ لیا ہے۔ لیکن ان میں بعض سائنسدانوں نے کچھ آلات کا ذکر بھی کیا ہے جن کی تعداد 10 کے قریب ہے۔ ان آلات کے متعلق کہا گیا ہے کہ کسی نہ کسی سطح کی روحانیت کی پیمائش کرسکتے ہیں۔

تاہم بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگر کسی آلے سے پیمائش ممکن نہیں تو روحانیت میں انسان مادی وسائل کےعلاوہ بھی خدا سے تعلق جوڑتا ہے، وہ زندگی کا واضح مقصد پاتا ہے اور اپنی قدر کرتا ہے۔ لیکن خدا پر نہ رکھنے والے افراد پر اپنی زندگی کا مقصد اور جینے کی امنگ پاکر خود کو بہتر بناسکتے ہیں۔

روحانی اقدار،خوش کلامی، حوصلہ افزائی اور دیگر طریقوں  کو استعمال پر مبنی یہ طریقہ علاج پالیاٹو تھراپی کہلاتا ہے۔ اس کے طبی سوالنامے اور معیارات بن چکے ہیں۔

ایک سروے میں 12 ہفتوں تک ای میل پر ان مریضوں سے سوالنامے بھروائے گئے جن میں روحانیت سے مدد حاصل کرنے کا کہاگیا تھا۔ 85 فیصد شرکا نے بامعنی زندگی، خدا پر بھروسے اور روحانیت سے مدد کی تھراپی کو مفید قرار دیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس سے ڈپریشن میں کمی ہوئی ہے اور انہیں سکون ملا ہے۔ تاہم اس تجربے میں مشکل سے 40 سے 50 ایسے مریض شامل تھے جو ہارٹ فیل کے شکار تھے۔

اس طرح روحانی تجربے سے مرض کی تکلیف اور نفسیاتی منفی اثرات ختم کرنے کا ایک اور ثبوت سامنے آیا ہے۔

Comments
Loading...