عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور، کل نئے قائد ایوان کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوگا

لاہور:  گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کر لیا۔ چودھری سرور نے عثمان بزدار کے استعفے کی منظوری پر دستخط کر دیئے۔ کابینہ تحلیل ہوگئی جبکہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا جس میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہوگا۔

گورنر پنجاب نے استعفے کی تصدیق کا قانونی عمل مکمل کرنے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کو مدعو کیا۔ عثمان بزدار کی جانب سے استعفے کی تصدیق کے بعد قانونی عمل مکمل ہوگیا۔ گورنر پنجاب نے عثمان بزدار کے استعفے کی منظوری پر دستخط کر دیئے۔ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد گورنر نے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔ نوٹیفکیشن سے پہلے گورنر نے وزیراعظم سے حتمی اجازت لی۔

خیال رہے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے 20 اگست 2018 کو حلف اٹھایا۔ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا، 2018 میں پہلی بار رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوتے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے۔ عثمان بزدار 2018 کے عام انتخابات سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا حصہ رہے۔

عثمان بزدار 2001 میں مسلم لیگ ق کا حصہ بنے، عثمان بزدار 2001 سے 2008 تک تونسہ کے تحصیل ناظم رہے، 2013 میں پہلی بار پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہوسکے، 2013 میں مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے، 2013 کے عام انتخابات میں پی پی 241 سے قسمت آزمائی کی، 2013 میں ن لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

Comments
Loading...