قومی اسمبلی تحلیل: سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

اسلام آباد:  وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائز پر صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ قوم الیکشن کی تیاری کرے۔

ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی جاتی ہے، ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لائی جا رہی ہے، ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا رہی ہے، اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آرٹیکل فائیو اے کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے، کیا بیرون ملک کی مدد سے پاکستان میں حکومت تبدیل ہوسکتی ہے، کیا یہ آئین کے آرٹیکل کے 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیا پاکستانی غلام، فقیر یا کٹھ پتلی ہیں، بیرونی قوتوں کی جانب سے ملک میں رجیم بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد رولز کی خلاف ورزی ہے، لہذا وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔

12:29pm: وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم کو مبارک دینا چاہتا ہوں اسپیکر قومی اسمبلی نے رجیم تبدیل کرنے کی تحریک مسترد کر دی، عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، پوری قوم پریشان تھی، غدار بیٹھے ہوئے تھے، ملک کیساتھ غداری ہو رہی تھی، سب کو یہی پیغام دیا گھبرانا نہیں، انشااللہ ایسی سازش قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی، صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل تجویز بھیج دی ہے، کسی بیرونی قوت نے ملک کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ملک کیساتھ ہونیوالی بڑی سازش فیل ہوگئی، عوام فیصلہ کریں نہ کہ بیرونی طاقت ہمارے معاملات کا فیصلہ کرے، اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ ارکان اسمبلی خریدنے کی بجائے غریبوں کا بھلا کر دیں، ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے۔

12:48pm: بلاول بھٹو

بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنا آئینی حق منوانے تک دھرنا جاری رکھیں گے، اسپیکر نے آخری موقع پر غیر آئینی کام کیا ہے، پاکستان کا آئین توڑا گیا ہے، پاکستان کے آئین کو توڑنے کی سزا واضح ہے، عدم اعتماد پر ووٹنگ آج ہونی ہے، اپوزیشن کی تعداد کی مکمل تھی، ہمارے پاس وزیراعظم کو شکست دینے کے لئے اکثریت ہے، قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہے، وہ اسمبلیوں کو تحلیل نہیں کرسکتے، عمران خان کو عدم اعتماد کا مقابلہ کرنا پڑے گا، اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد جمع کروا کر ان سے اجلاس ملتوی کرنے کا حق بھی چھینا ہے، واحد آئینی اور جمہوری راستہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ آج ہی عدم اعتماد پر ووٹنگ کا فیصلہ دے۔

01:30pm: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی تحلیل ہونے کا نوٹس لے لیا۔ عدالت نے معاملے کو دیکھنے کے لئے اسپیشل بینج بنا دیا۔

 02:00pm: متحدہ اپوزیشن اجلاس

متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں اپنا اجلاس شروع کر دیا۔ اپوزیشن نے ایاز صادق کو سپیکر کی کرسی پر بیٹھا دیا۔ ایاز صادق سپیکر کے طور پر اجلاس کی صدارت کرنے لگے۔ مرتضی جاوید عباسی نے نئے پینل آف چیئر کا اعلان کر دیا۔

Comments
Loading...