جولائی تا مارچ؛ تجارتی خسارہ 35.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

اسلام آباد:  مالی سال 2021-22ء کے ابتدائی 9ماہ کے اختتام پر تجارتی خسارہ بڑھ کر 35.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

عمران خان کی حکومت نے پورے مالی سال کے لیے بجٹ خسارے کا ہدف 28.4 ارب ڈالر مقررکیا تھا تاہم 9ماہ میں ہی بجٹ خسارہ 35ارب ڈالر سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ مارچ  میں، جو پی ٹی آئی  کے 43ماہ پر مشتمل دورحکومت کا آخری مہینہ تھا، برآمدات میں بھی کمی آئی۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے گزشتہ روز جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا مارچ 2021-22ء میں تجارتی خسارہ  بڑھ کر 35.4  ارب ڈالر پر پہنچ گیا۔ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں بجٹ خسارہ 14.6 ارب ڈالر ( 70 فیصد ) زائد ہے۔

حال ہی میں ختم ہونے والی حکومت نے پورے سال کے لیے  تجارتی خسارے کا جو ہدف مقرر کیا تھا وہ 7ماہ ہی  میں پورا ہوگیا تھا۔ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سبب  بن رہا ہے جو پہلے ہی  کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور  قرض  کی ادائیگیوں کی وجہ سے زوال پذیر ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 25مارچ تک  مزید سُکڑ کر 12  ارب ڈالر رہ گئے تھے۔ جولائی تا مارچ کے عرصے کے دوران درآمدات بڑھ کر 58.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے درآمدات کا سالانہ ہدف55.2 ارب ڈالر مقرر کیا تھا۔

رواں مالی سال کے 9ماہ کے دوران  برآمدات 25 فیصد اضافے سے 23.9 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئیں۔ اس عرصے کے لیے برآمدات کا ہدف 18.7 ارب ڈالر رکھا گیا تھا۔

Comments
Loading...