ڈالر ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

کراچی: جاری سیاسی بحران ملک میں اقتصادی چیلنجز بڑھانے اور پاکستانی روپیہ کی تنزلی کا باعث بن گیا ہے جس سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے انٹر بینک ریٹ 185روپے جبکہ اوپن ریٹ 186روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے اقتصادی جائزہ پر مذاکرات نئی حکومت کے قیام تک معطل کرنے کے فیصلے جیسے عوامل کے باعث انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 1.14روپے کے اضافے سے 185.23روپے کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔

اسطرح سے یکم مارچ 2022 سے اب تک انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر 7.82روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک روپے کے اضافے سے 186.50روپے کی نئی تاریخ ساز سطح پر بند ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کی ناگفتہ بہہ صورتحال میں آئی ایم ایف کا نئی حکومت سے مذاکرات کرنے کے فیصلے سے ملک میں ذرمبادلہ کا بحران مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت بڑھا دی ہے کیونکہ ملک کے اقتصادی محاذ پر بھی صورتحال غیر تسلی بخش نظر آرہی ہے۔

چین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے واجب الادا قرضوں کی اگرچہ ری شیڈولنگ بھی کر دی گئی ہے لیکن اسکے باوجود بیرونی ادائیگیوں کے لیے ملکی ذرمبادلہ کی ضرورت ہے جو مطلوبہ مقدار میں دستیاب نہیں ہے اور یہی عوامل زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں یومیہ بنیادوں پر ڈالر کی قدر کو نئی بلندیوں پر پہنچا رہے ہیں۔

Comments
Loading...