سرجری کے بغیر، لیزر شعاع سے موٹاپے کا نیا علاج دریافت

جنوبی کوریا: موٹاپا جتنی دیر میں پر پھیلاتا ہے تو اسے ختم ہونے میں بھی اتنا ہی وقت لگتا ہے۔ اب کسی سرجری اور تکلیف دہ عمل کے بغیر لیزر کی بدولت موٹاپے میں کمی کی جاسکتی ہے اور اس کے ابتدائی تجربات حوصلہ افزا ثابت ہوئے ہیں۔

اب ایک نئے عارضی پیوند (امپلانٹ) کی بدولت معدے میں بھوک لگانے اور اسے بار بار جگانے والے خلیات کو دبایا یا ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ گریلن نامی ایک ہارمون بھوک بڑھاتا ہے، کھانے میں رغبت دلاتا ہے اور بدن میں چربی جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ہارمون، دماغ، لبلبےاور چھوٹی آنت سے بھی خارج ہوتا ہے لیکن معدے کا اوپری حصہ اس ہارمون کی سب سے زائد مقدار خارج کرتا رہتا ہے۔

اسی بنا پرکوریا کی کیتھولک یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے خلیات سے گریلن کی پیداوار روکنے کے لیے ایک آلہ بنایا ہے۔ اسے ’انٹراگیسٹرک سیٹیٹی انڈیوسنگ ڈیوائس‘ (آئی ایس ڈی) کا نام دیا گیا ہے۔ کسی سرجری کے بغیر ایک اسٹینٹ کی بدولت اسے معدے کے اوپری حصے ’ایسوفیگس‘ تک پہنچایا جاتا ہے۔

اسٹینٹ کو فائبرآپٹک لیزر کی بدولت پیٹ میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے اوپر ایف ڈی اے سے منظور شدہ ایک دوا، میتھائلن بلو لگائی گئی ہے۔ جیسے ہی لیزر کی روشنی میتھائلن پر پڑتی ہے تو آکسیجن کی ایک خاص قسم ’سنگلٹ آکسیجن‘ پیدا ہوتی ہے۔ یہ آکسیجن اطراف کے ان خلیات کو تباہ کرتی ہے جو گریلن پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد تار کو اسٹینٹ سمیت واپس کھینچ لیا جاتا ہے۔

پہلے مرحلے میں یہ طریقہ نوعمر خنزیروں پر آزمایا گیا ہے۔ صرف ایک ہفتے میں ان جانوروں میں گریلن کی سطح کم ہوگئی اور وزن بھی کم ہونا شروع ہوا۔ جن خنزیروں پر یہ عمل نہیں کیا گیا ان پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ ایک مرتبہ لیزر تھراپی کا اثر کئی ہفتوں تک قائم رہا۔ تاہم اب بھی یہ طریقہ انسانی آزمائش سے دور ہے لیکن ابتدائی تجربات بہت ہی امید افزا ہیں۔

Comments
Loading...