وٹامن ’کے‘ دماغ کےلیے مفید اور الزائیمر روکنے میں مددگار

ریاض: الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسے امراض ہمارے لیے ایک خوفناک مسئلہ بن چکے ہیں۔ اب ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہرے پتوں والی سبزیوں میں بکثرت پایا جانے والا وٹامن کے دماغ کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے اور الزائیمر کے خطرے کو بھی ٹال سکتا ہے۔

جیسے جیسے ہم بڑھاپے کی طرف جاتےہیں ہماری یادداشت اور دماغی افعال کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں سعودی عرب کی المعارفہ یونیورسٹی نے ایک تحقیق کے بعد کہا ہے کہ وٹامن کے دماغ کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ان میں الزائیمر اور ڈیمنشیا بھی شامل ہیں جن کا اب تک کوئی علاج سامنے نہیں آسکا ہے۔

المعارفہ یونیورسٹی کی تحقیقات میں عمررسیدہ بوڑھوں کو وٹامن کے سپلیمنٹ دیئے گئے تو نہ صرف ان کی یادداشت بہتر ہوئی بلکہ ان میں ڈیمنشیا اور الزائیمر کی رفتار بھی سست ہوگئی جسے ماہرین نے بہت امید افزا قرار دیا ہے۔ ان دونوں کیفیات میں مریض یادداشت کھودیتا ہے اور بسااوقات بولنے کے لیے الفاظ نہیں ملتے یہاں تک کہ زندگی کے روزوشب کے عام کام بھی شدید متاثر ہونے لگتے ہیں۔

یہ کیفیت دماغ میں مضر ٹاؤ پروٹین اور ایمی لوئڈ اجزا کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اگر دماغ کو ان مضر پروٹین سے پاک کردیا جائے تو الزائیمر کی کیفیت کو دور کیا جاسکتا ہے۔

المعارفہ یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر محمد الشربینی نے بتایا کہ الزائیمر کی بہت سی اقسام ہیں لیکن عمررسیدگی کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ وٹامن کے میں گھل جانے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن یہ بڑھاپے میں جسم میں کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں وٹامن کے کے سپلیمنٹ بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

پروفیسر محمد الشربینی اور ان کے ساتھیوں نے بوڑھے چوہوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک گروپ کو ’مینا کوئنن 7‘ کے سپلیمنٹ دیئے اور دوسرے گروہ کو ایسے ہی چھوڑدیا گیا تھا۔ مطالعے کا عمل 17 ماہ تک جاری رہا اور ہر مرحلے پر چوہوں کے ٹیسٹ کئے جاتے رہے۔ ان میں ڈپریشن، یاسیت، یادداشت اور اکتساب کے ٹیسٹ شامل تھے۔

مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ وٹامن کے سے چوہوں میں سیکھنے اور یادداشت میں بہتری پیدا ہوئی ۔ اس طرح ماہرین کا اصرار ہے کہ وٹامن کے دماغ کے لیے مجموعی طور پر بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اب تک چوہوں پر کی گئی تحقیقات سے انسانوں کو بہت فائدہ ہوا ہے کہ وہ انسانی بدن کا بہترین متبادل ثابت ہوتے ہیں اور یوں چوہوں پر کی گئی یہ تحقیق انسانوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

Comments
Loading...