طاقتور ترین زلزلہ: جب چلی کی سرگرمی سے نیوزی لینڈ میں سونامی آگیا

چلی: ماہرین نے انسانی تاریخ کا سب سے طاقتور اور وسیع اثر رکھنے والے زلزلے کے آثار ملے ہیں۔ اب سے 3800 برس قبل رونما ہونے والے زلزلے کا مرکز چلی میں تھا لیکن اس سے بننے والی سونامی نیوزی لینڈ میں بھی محسوس کی گئی تھی۔

اس زلزلے کی شدت سے چلی کی ساحلی پٹی شدید متاثر ہوئی اور مقامی شکاری افراد اتنے خوفزدہ ہوئے تھے کہ وہ اگلے 1000 برس تک ساحل سے دور رہنے پر مجبور تھے۔

ماہرین نے اسے انسانی معلومہ تاریخ کا سب سے طاقتور زلزلہ قرار دیا ہے۔ اگرچہ اس وقت تحریر کا کوئی رواج نہ تھا لیکن قدیم آثار اور قبروں سے اس پر کچھ روشنی پڑی ہے۔ دوسری جانب اس سے انسانی معاشرے کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح حادثات سے خود کو بچاتا ہے اور اپنی زندگی جاری رکھتا ہے۔

جامعہ چلی کے پروفیسر گیبریئل ایسٹون اور ان کے ساتھیوں نے وہاں کے مشہور اتاکاما ریگستان میں کئی برس گزارے ہیں۔ انہوں نے مغربی ساحلی علاقے سے قدیم سونامی کے کئی آثار معلوم کئے ہیں۔ کئی مقامات پر انہیں ریت اور مٹی کے ایسے ڈھیر ملے ہیں جو سونامی کی لہروں نے وہاں لاکر پٹخے تھے۔ ان میں کوئلے، سمندری سیپیوں اور دیگر آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ قریباً 3800 سال قبل پیش آیا تھا۔

عین یہی آثار بہت وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے اور ان کی وجہ ایک غیرمعمولی سرگرمی ہی ہوسکتی ہے کیونکہ سمندری جاندار اور سیپیاں وہاں سونامی کی بدولت ہی پہنچ سکتی تھیں۔

پاکستان کے ساحلِ مکران کی طرح چلی کے ساحل کے پاس ایک قدرتی سبڈکشن زون موجود ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ارضیاتی پلیٹ وہاں دوسری ارضیاتی پلیٹ کے نیچے دھنس رہی ہے اور اسی وجہ سے سونامی اور زلزلے رونما ہوتے رہے ہیں۔

اگرچہ ہم اس علاقے میں زلزلوں کی حتمی تاریخ سے واقف نہیں لیکن یہاں کم کم زلزلے ریکارڈ ہوئے ہیں۔ ان میں سے سب سے طاقتور زلزلہ 1960 میں والڈیویا کا زلزلہ تھا جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 9.5 تھی اور اسی بنا پر انسانی معلومہ تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ بھی کہلایا تھا۔

ماہرین متفق ہے کہ چلی کا یہ علاقہ غیرمعمولی بڑے زلزلوں کا مقام ہوسکتا ہے۔ اگرچہ اتاکام ریگستان دنیا کا خشک ترین خطہ بھی ہے لیکن اس کے ساحلوں پر انسان 12000 برس سے آباد ہے اور یہی وجہ ہے کہ مچھیروں اور شکاریوں کی بستیاں پہلے بھی یہاں آباد تھیں۔

ماہرین کے مطابق اس زلزلے سے جو سونامی پیدا ہوئی وہ 5000 میل دور کا سفر کرکے نیوزی لینڈ تک محسوس کی گئی تھی۔ یہ اثرات نیوزی لینڈ کے قریب ایک چھوٹے سے جزیرے، کیتھم آئی لینڈ تک محسوس کئے گئے تھے اور وہاں کی مٹی سے بھی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

Comments
Loading...