نئی حکومت کو معاشی استحکام کیلیے فوری اقدامات کی ضرورت

کراچی: سیاسی ہلچل بڑی حد تک تھم چکی ہے، ملک میں نئی حکومت قائم ہوچکی ہے اور نئے معاشی مینیجرز آچکے ہیں۔

طویل مدت اقدامات کے علاوہ معاشی استحکام کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے مارکیٹس میں غیریقینی کیفیت ختم کرنی ہوگی۔ اس ضمن میں فاریکس مارکیٹ پہلے ہی مثبت ردعمل ظاہر کرچکی ہے، اور ڈالر جو 190 روپے تک چلاگیا تھا وہ واپس 181 روپے پر آگیا ہے۔

اگلے چند ماہ میں اسے 175روپے کے لگ بھگ تک گرجانا چاہیے۔ برآمدات پر مبنی نمو اور کھپت پر مبنی نمو کے درمیان مثبت توازن قائم کرنا ہوگا۔ حکومت قرضوں کی ضرورت کم کرنے کے لیے سرکاری اخراجات میں کمی لانا ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ پالیسی فریم ورک وضع کرنا ہو گا تاکہ مقامی اور متعلقہ بیرونی حلقوں کا ملکی معیشت پر اعتماد بحال ہو۔

علاوہ ازیں آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کو ازسر نو ترتیب دینا ہوگا۔ نئے معاشی مینیجرز کو آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کی ایولوایشن کرتے ہوئے یقینی بنانا ہوگا کہ یہ پروگرام جاری رہے۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 200 روپے فی لیٹر تک بڑھانی ہوگی۔ بجلی بھی مہنگی اور ایمنسٹی اسکیمیں ختم کرنی ہوں گی۔

اس موقع پر آئی ایم ایف کے ساتھ کثیرسالہ اہداف کا تعین کرنا ناممکن ہوگا۔پاکستان برسوں سے معاشی سطح پر اپنے دوست ممالک پر انحصار کرتا آرہا ہے۔ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے پھر ان سے مدد لینی ہوگی جو تقریباً نصف تک گر چکے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا راستہ روکنے کے لیے جاری کھاتے کے خسارے پر قابو پانا ہوگا۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ نون کی حکومت کو اسٹیٹ بینک کے موجودہ گورنر کی مدت میں اضافے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر رضاباقر میرا پاکستان میراگھر، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ جیسے پروگراموں کے ذریعے قرض دہندگان، مقامی سرمایہ کاروں اور عالمی تجزیہ کاروں کے نزدیک اپنا مثبت امیج بناچکے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ تمام سیاست دان معیشت کی بالادستی پر زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کریں۔

Comments
Loading...