اپنی عزت خود کرنے کے نفسیاتی اور حقیقی فوائد سامنے آگئے

کیلفورنیا: اسے غرور نہ سمجھیں کیونکہ اپنی عزت خود کرنے کے بہت سے نفسیاتی، سماجی یہاں تک کے عملی زندگی میں بھی بیش بہا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں سائنسدانوں نے پہلے سے موجود لٹریچر اور تحقیق کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ خود توقیری (سیلف اسٹیم) کے نفسیاتی، سماجی، اطلاقی اور عملی فوائد سامنے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کی اطراف لوگوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتےہیں۔

امریکن سائیکولوجسٹ میں شائع تازہ تحقیق میں جامعہ کیلیفورنیا ڈیویس میں نفسیات کے پروفیسر رچرڈ رابنس اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ خود کی عزت کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے تعلیم، تعلقات، کاروبار اور ملازمت میں بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے لیے سائنسدانوں نے ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں مطالعوں کا تجزیہ کیا ہے۔
خودتوقیری دماغی، نفسیاتی اور جسمانی صحت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے اور زندگی میں کئی مقامات پر کامیابیاں دلاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے طویل اثرات ساری عمربرقرار رہتے ہیں۔ اگرچہ دیگر عوامل بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن خودتوقیری کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اپنے بارے میں مثبت رائے اور اچھا رویہ بھی بہت اہم کردار کا حامل ہوتا ہے اور ایک سال بھی یہ رحجان مستقبل تک پر اثر ڈالتا ہے۔ اس ضمن میں پروفیسر رچرڈ نے خود کئی برس تک سیلف اسٹیم کا جائزہ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ اس نرگسیت، خود پسندی اور غرور قرار دیتے ہیں جو کہ درست نہیں کیونکہ خود توقیری کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی نظروں میں اپنی کتنی عزت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے غرور اور خودپسندی قرار دینا درست نہیں۔

رچرڈ کہتے ہیں کہ زندگی کے مختلف ادوار میں اس کے فوائد ایک عشرے سےدوسری دہائی تک جاتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔ رچرڈ کہتے ہیں کہ خودتوقیری اور خود پسندی ایک دوسرے کی الٹ ہیں یہی وجہ ہے کہ خود توقیری کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔

تاہم پروفیسر رچرڈ نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔

Comments
Loading...