باورچی خانے کی عام شے سے ماحول دوست فیول سیل بنانے میں پیشرفت

نئی دہلی: ہمارے باورچی خانے میں عام پائی جانے والی ہلدی سے مؤثر ایندھنی سیل اور بیٹریاں بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہیں۔

بھارت میں سری ساتھیا سائی انسٹی ٹیوٹ آف ہائرلرننگ اور کلیمسن نینومٹیریئل انسٹی ٹیوٹ ( سی این آئی) نے ہلدی میں موجود ایک جزو کرکیومِن کو جب سونے کے نینوذرات سے ملایا تو انہیں نے اس سے ایک ایسا الیکٹروڈ بنایا جو ایتھانول کو بہت تیزی سے بجلی میں بدلتا ہے اور اس میں روایتی طریقوں سے 100 درجے کم توانائی لگتی ہے۔

اس اہم پیشرفت سے ہائیڈروجن فیول سیل کی منزل اور قریب آگئی ہے تاہم تجارتی پیمانے پر تیاری کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ سی این آئی کے سربراہ ڈاکٹر اپارو راؤ نے کہا کہ الکحل کی آکسیڈیشن کے لیے جو عمل انگیز (کیٹے لسٹ) درکار ہوتے ہیں ان میں سے کرکیومن والے نینوذرات سب سے مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ ہائیڈروجن جیسے فیول سیل میں احتراق (کمبسشن) کی بجائے کیمیائی تعاملات سے بجلی بنائی جاتی ہے۔ اس سے بالخصوص کاریں، دیگر آلات اور بیک اپ پاور نظام بنایا جاتا ہے۔ اس فہرست میں ہائیڈروجن ایندھی (فیول) سیل کم خرچ اور ماحول دوست ثابت ہوئے ہیں۔

قدرتی طور پر ہائیڈروجن ایک مرکب کی صورت میں ملتا ہے اور اسی وجہ سے اسے قدرتی گیس اور ایندھن سے اخذ کیا جاتا ہے۔ اب روایتی طریقوں سے ہائیڈروجن بنانے کی قیمت ماحولیاتی اثرات کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔

پھر ہائیڈروجن کو سیلنڈر میں بھرکر رکھنا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔ اس کے مقابلے میں مکئی، گنے اور دیگر اجناس سے الکحل کی ایک قسم ایتھانول سے ہائیڈروجن کشید کرنا قدرے آسان عمل ہے کیونکہ اس سے مائع ہائیڈروجن ملتی ہے۔ لیکن اس میں بھی ضروری ہے کہ ہمارے پاس الیکٹروڈ (برقیرے) بہت مؤثر ہوں اور اس میں ہلدی کا بہترین کردار سامنے آیا ہے۔ یہ الیکٹروڈ کم خرچ اور ماحول دوست ہیں۔

اس سے قبل برقیروں میں پلاٹینم بھی استعمال کیا گیا ہے لیکن وہ پورے عمل میں آکسیڈیشن کے دوران زہریلے مرکبات کی وجہ بنتا ہے اور ایک طرح سے کاربن مونوآکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔ اب سونے کے انتہائی باریک ذرات میں ہلدی کا کیمیکل کرکیومن ملایا گیا ہے اور وہ ایک بہترین الیکٹروڈ ثابت ہوا ہے۔ اس عمل میں نینوذرات سے ایک برقیرہ بنایا گیا اور اس پر کرکیومِن کی چادر چڑھائی گئی ہے۔

توقع ہے کہ اس کم خرچ عمل سے ماحول دوست اور ارزاں ایندھنی سیل بنائے جاسکیں گے۔ دوسری جانب ایندھنی سیل کے علاوہ بھی ان سے حساس سینسر بنائے جاسکتے ہیں جو طبی استعمال میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ ایک تجربے میں اس سے دماغ میں ڈوپامائن کی کمی بیشی کو نوٹ کرنے کا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا ہے۔

Comments
Loading...