ناسا نے خلائی جہازوں کے لیے ایک ہزار گنا بہتر دھاتی بھرت تیار کرلی

پیساڈینا، کیلیفورنیا: ناسا کے ماہرین نے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے ایک دھاتی بھرت (میٹل الوئے) بنائی ہے جو اب تک جدید ترین دھاتی بھرت سے 1000 گنا مؤثر، بہتر اور پائیدار ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے ایک ’انقلابی‘ اختراع قرار دیا جارہا ہے جو خلائی و فضائی صنعت میں تیزرفتار ترقی کی وجہ بنے گی۔

جی آر ایکس 810 نامی یہ بھرت حال کی تمام دھاتی بھرتوں سے کئی گنا بہتر ہے۔ اپنی ساخت کی بنا پر یہ راکٹ انجن کی شدید حرارت اور ارتعاش بھی برداشت کرسکتی ہے۔ ناسا کے مطابق اس سے طویل خلائی مشن اور خلائی جہازوں کو گویا پر لگ جائیں گے۔ ساتھ ہی ہوائی جہاز ٹیکنالوجی بھی ترقی کے زینے طے کرے گی۔

ابتدائی اندازے کے مطابق یہ موجود تمام دھاتی بھرتوں کے مقابلے میں دگنی مضبوط ، ساڑھے تین گنا لچک دار اور 1000 گنا پائیدار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیا مٹیریئل بلند درجہ حرارت اور دباؤ میں بھی اپنی افادیت برقرار رکھتا ہے۔
ناسا گلین ریسرچ سینٹر میں ٹرانسفارمیشنل ٹولز کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر ڈیل ہوپکنز نے اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک جانب بہت مضبوط ہے تو دوسری جانب بہت ہلکا پھلکا مٹیریئل ہے جو خلائی پرواز کے مستقبل کو تبدیل کردے گا۔ جب جب دھات کی مضبوطی بڑھائی جاتی ہے تو لچک ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور کسی نہ کسی مقام پر اچھی دھاتی بھرتیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ لیکن جی آر ایکس 810 ان سب خامیوں سے پاک ہے۔

اس کی تیاری میں بطورِ خاص مصنوعی ہاتھ اور کمپیوٹر پروگرام سے مدد لی گئی ہے۔ اگلے مرحلے میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی وضع کی گئی ہے۔ سب سے پہلے ٹربائن انجن کا احتراقی چیمبر یا کمبسٹر بنایا گیا ہے۔ یہ وہ گوشہ ہوتا ہے جہاں راکٹ انجنوں کا ایندھن ہوا سے ملاپ کرتا ہے اور جل کر راکٹوں کو اوپر کی جانب دھکیلتا ہے۔

لیکن یہی ایجاد ترقی کے دیگر گوشوں کو بھی تیز تر بنائے گی اور مزید بہتر مادے ہمارے ہاتھ آسکیں گے۔ اس سے قبل نئے مٹیریئل کوشش اور خطا (ٹرائل اینڈ ایرر) کے تحت بنائے جاتے رہے جن میں مہینوں اور برس صرف ہوتے تھے لیکن اب کمپیوٹر الگورتھم اور تھری ڈی پرٹنگ سے یہ ہفتوں یا مہینوں کا کام بن چکا ہے۔

جب جی آر ایکس 810 کو مختلف ٹیسٹ سے گزارا گیا تو ماہرین کی حیرت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور ایک مقام پر معلوم ہوا کہ وہ ایک شاندار شے ڈھال چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عملی طورپریہ مٹیریئل کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

Comments
Loading...