ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے سی پیک فعال نہ ہوسکا

سلام آباد: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کو آپریشنل نہ کرسکا۔

پاکستان جس کی نظریں 10ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری اور 4 خصوصی زونز میں 420000 نئی ملازمتوں کی فراہمی پر تھیں وہ کارگو کی بلاتعطل ہینڈلنگ کیلیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کو آپریشنل نہ کرسکا، کیوں کہ سابق حکومت نے ڈائریکٹوریٹ کے لیے 400 افراد پر مشتمل عملہ مہیا نہیں کیا۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں قریباً چار سال قبل ڈائریکٹوڑیت کے قیام کی منظوری دی گئی تھی مگر اندرونی اختلافات اور بیوروکریسی کی روایتی نااہلیوں کی وجہ سے حکومت ڈائریکٹوریٹ کو فعال کرنے کے لیے مطلوبہ افرادی قوت فراہم نہ کرسکی۔
سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نئے ڈپارٹمنٹ کے لیے سربراہ سمیت 404 پوزیشنیں تخلیق نہ کرسکی۔ ڈائریکٹوریٹ کے لیے یہ پوزیشنیں قائم کرنے کے لیے فائل ورک چار برس قبل شروع ہوگیا تھا جب ایف بی آر نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے 719 اسامیاں مختصر کرنے کی درخواست کی تھی۔

تاہم ایک سال کی تاخیر کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پروجیکٹ کے لیے 404 اسامیاں منظور کیں۔ مگر یہ اسامیاں کبھی تخلیق نہ کی جاسکیں کیوں کہ ذرائع کے مطابق یہ فائل چیئرمین ایف بی آر کی میز پر پڑی رہ گئی اور انھوں نے اسے مزید کارروائی کے لیے وزارت خزانہ کو ارسال نہیں کیا۔

ڈائریکٹوریٹ کو فعال کرنے میں تاخیر بیوروکریسی کے باہمی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے۔ بیوروکریسی کے یہ اختلافات ملکی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔

Comments
Loading...