ڈیڑھ کلو واٹ بجلی کو فضا میں ایک کلومیٹر دور بھیجنے کا کامیاب تجربہ

میری لینڈ: امریکی بحریہ کے تحقیقی ادارے نے ہوا کے دوش پر بجلی کی بڑی مقدار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ کسی تار کے بغیر منتقل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

ماہرین نے اسے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا ہے جس میں یو ایس نیول ریسرچ لیبارٹری (این آر ایل) نے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ اس تجربے کو ’سیف اینڈ کنٹی نیو پاور بیمنگ مائیکروویو (اسکوپ ایم) کا نام دیا ہے۔ اس میں 1.6 کلوواٹ بجلی کو ایک کلومیٹر یعنی 3280 فٹ دور بھیجا گیا ہے۔ یہ تجربہ آرمی تحقیقی میدان میں کیا گیا ہے جو میری لینڈ میں واقع ہے۔

اگرچہ کوئی سو برس سے ہم ہوا کے دوش پر بجلی کی ترسیل پر مختلف تجربات کررہے ہیں۔ اس ضمن میں جزوی کامیابی بھی ملی ہے لیکن امریکی بحریہ کی کاوش کسی بھی طرح بھی انقلاب سے کم نہیں۔ 1970ء میں جیرارڈ او نیل نامی سائنسداں نے خلائی بستیاں بنانے اور وہاں بڑے شمسی سیلوں سے بجلی کو لہروں میں بدل کر زمین پر بھیجنے اور لامحدود بجلی کے حصول کا تصور پیش کیا تھا۔

اس کا اصول بہت سادہ اور دلچسپ ہے۔ اس میں بجلی کی بڑی مقدار کو پہلے مائیکروویو (خردموجی) شعاعوں میں بدلا جاتا ہے۔ پھراسے ایک مرتکز لہر میں بدلا جاتا ہے۔ یہ شعاع فاصلہ طے کرکے ریکٹینا نامی نظام تک جاتی ہے۔ اگے جو ریسیور ہے اس میں ایکس بینڈ ڈائی پول اینٹینا اور آر ایف ڈائیوڈ نصب ہے ۔ جسے ہی مائیکروویو اس کے اینٹینا سے ٹکراتی ہے وہ ڈائریکٹ کرنٹ یا ڈی سی بجلی میں ڈھل جاتی ہے۔

خیال تھا کہ شاید بجلی کی کچھ مقدار ہوا میں ضائع ہوجائے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ بلکہ این آر ایل کے اس تجربے کے سربراہ کرسٹوفر روڈن بیک نے بتایا کہ یہ ایک محفوظ طریقہ ہے اور بجلی کی شاندار مقدار نے ایک کلومیٹر تک کا سفر طے کیا ہے۔

جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس کے لیے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دو نظام لگائے گئے اور ایک جگہ پر دس گیگا ہرٹز کی مائیکروویو شعاع پیدا کی گئی۔ ٹرانسمیٹر کو آرمی تحقیقی مرکز میری لینڈ اور دوسرا سیٹ اپ آیم آئی ٹی میسا چیوسیٹس کے الٹرا وائلٹ وائڈ بینڈ سیٹلائٹ امیجنگ ریڈار پر لگایا گیا ہے۔

اس فری کوئنسی پر توانائی کا زیاں صرف پانچ فیصد تک ہونا تھا اور تیز ہوا یا بارش سے بھی مائیکروویو میں لپٹی بجلی کی شعاع کو کسی نقصان کا اندیشہ نہ تھا۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ پرندوں، انسانوں اور درختوں وغیرہ کو کوئی نقصان نہ ہو جس کے بین الاقوامی معیارات متعین رکھے گئے۔

میری لینڈ کے تجربے میں ایک سے دوسرے مقام تک 60 فیصد بجلی پہنچی لیکن وہ دن دور نہیں کہ مشکل حالات میں کسی تار کے بغیر ہنگامی حالات میں ایک سے دوسری جگہ بجلی بھیجی جاسکے گی۔ دوسری جانب مدار میں موجود بڑے شمسی پینل سے 24 گھنٹے تک بجلی زمین پر بھیجنا ممکن ہوگا۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خلا میں بھی یکساں طور پر مؤثر ثابت ہوگی۔

Comments
Loading...