خون میں شکر کی زائد مقدار ورزش کی صلاحیت متاثر کرتی ہے

تل ابيب: ہم جانتے ہیں کہ ورزش کرنے سے ذیابیطس کے مریضوں میں خون کی مقدار معمول پر رہتی ہے لیکن اب اس کا دوسرا پہلو سامنے آیا ہے کہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار خود مریضوں کی ورزش کرنے کی صلاحیت متاثر کرتی ہے۔

اگرکوئی قبل از ذیابیطس، ٹائپ ون یا ٹائپ ٹو ذیابیطس سے متاثر ہو تو باقاعدہ ورزش رگوں اور نسیجوں کی تباہی، ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب وغیرہ سے محفوظ رکھتی ہے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ ذیابیطس کی شدید کیفیت خود ورزش کو بھی مشکل بنادیتی ہے اور یوں اس کے مکمل فوائد نہیں مل پاتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار کی وجہ سے مریض آکسیجن کو مکمل طور پر جلا نہیں باتے اور خود بدن ورزش کے خلاف مزاحمت بن جاتا ہے۔ یہ تحقیقی اسرائیل میں واقع جوزلنِ ذیابیطس سینٹر نے کی ہے۔ انہوں نے غور شروع کیا کہ کس طرح خون میں شکر کی بڑھی ہوئی مقدار ورزش میں رکاوٹ ڈالتی ہے اور اسے کم کرکے کیسے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
ڈائبیٹس نامی جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کےمطابق اگر ورزش کرنے والے افراد پہلے خون میں شکر گھٹانے والی دوا کھائیں تو ورزش کے زیادہ فوائد حاصل ہوسکتےہیں کیونکہ بدن کا استحالہ (میٹابولزم) نظام قدرے بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔

تحقیق سے وابستہ سائنسداں ڈاکٹر سارہ جے لیسرڈ کہتی ہیں کہ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آخر کیوں ذبابیطس کے بعض مریض کوشش کے باوجود بھی ورزش نہیں کرپاتے اور اس کے فوائد ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو سمجھ کر ذیابیطس قابو کرنے کی بہترحکمتِ عملی وضع کی جاسکتی ہے۔

اس کے لیے چوہوں کے ماڈل کو آزمایا گیا اور انہیں کیناگلیفلوزن نامی دوا کھلائی گئی جو خون میں شکر کی مقدار کم کرتی ہے۔ یہ چوہے ہائی بلڈ شوگر کے مریض تھے اور انہیں چھ ماہ تک ورزش کے عمل سے گزارا گیا۔ دوسرے گروپ کے چوہے بھی ذیابیطس کے مریض ہی تھے لیکن انہیں کوئی دوا نہیں دی گئی تھی۔ اب جن چوہوں کو گلوکوز کم کرنے والی دوا دی گئی انہوں نے ورزش میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

پھر ماہرین نے چوہوں کی بافتوں اور ہڈیوں کا معائنہ کیا اور کم ورزش کرنے کی صلاحیت کا جسمانی جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔ معلوم ہوا کہ بلند شوگر کا مسلسل عارضہ ہمارے پٹھوں کو متاثر کرکے ورزش کی صلاحیت کو ماند کرسکتا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ کسی بھی طرح خون میں شکر کی مقدار معمول پر رکھ کر دوبارہ ورزش کی بہتر صلاحیت حاصل کی جاسکتی ہے۔

اگلے مرحلے پر اسی ضمن میں مزید تحقیق کی جائے گی۔

Comments
Loading...