ہم سے بہتر کون جانتا ہے نیک نیتی کے باوجود تنقید کیسے برداشت کرتے ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ جب آپ سسٹم کا حصہ ہوتے ہیں تو کچھ لوگ آپ کے حمایتی اور کچھ مخالف ہوتے ہیں ، ہم سے بہتر کون جانتا ہے کہ نیک نیتی کے باوجود تنقید کو کیسے برداشت کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں لاء کالجز کی تعداد اور قانون کی معیاری تعلیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے لاء کالجز قائم کرنے کے باقاعدہ طریقہ کار سے متعلق قائمہ کمیٹی کے قیام کا حکم دے دیا۔ عدالت نے وزارتِ قانون اور وفاقی حکومت کو قائمہ کمیٹی کے قیام میں معاونت کا حکم بھی دیا۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ قائمہ کمیٹی ملک میں لاء کالجز کے معیار سے متعلق قوائد و ضوابط اور طریقہ کار وضع کرے، کمیٹی میں ایکسپرٹ اور ماہر وکلاء شامل کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کلچر بن گیا فیصلہ حق میں آئے تو انصاف ہوا، خلاف آئے تو انصاف تار تار ہوا، سپریم کورٹ

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے کمروں میں بنے لاء کالجز نہیں چلیں گے۔ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے کہا کہ وزیر قانون سے میں خود مشاورت کر لوں گا۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ موجودہ وزیر قانون خود پاکستان بار کا حصہ ہیں غیر جانبداری سے کمیٹی کا قیام کیسے کریں گے؟۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جب آپ سسٹم کا حصہ ہوتے ہیں تو کچھ لوگ آپ کے حمایتی اور کچھ مخالف ہوتے ہیں ، ہم سے بہتر کون جانتا ہے کہ نیک نیتی کے باوجود تنقید کو کیسے برداشت کرتے ہیں۔

صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ پورے معاشرے میں تنقید ہی ہو رہی ہے، آپ نے صبر سے تکلیف برداشت کی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی بات نہیں، آخر سچائی ہی غالب آتی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں وکیل ظفر اقبال کلانوری سمیت وکلاء نے لاء کالجز کی تعداد اور غیر معیاری تعلیم سے متعلق سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

Comments
Loading...