مصباح الحق نے رمیز راجہ کو برطرف کرنے کی مخالفت کردی

لاہور: مصباح الحق نے بھی رمیزراجہ کو برطرف کرنے کی مخالفت کردی۔

حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی پی سی بی کی کمان بھی تبدیل کرنے کی روایت رہی ہے، عمران خان سے وزارت عظمیٰ کا قلمدان چھن جانے کے بعد رمیزراجہ کیلیے بھی خطرے کے گھنٹی بجنا شروع ہوگئی ہے۔

اگرچہ حکومتی ایوانوں سے باضابطہ طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا تاہم اطلاعات یہی ہیں کہ آئینی ترمیم کا کوئی راستہ نکال کر انھیں چیئرمین پی سی بی کی مسند سے محروم کردیا جائے گا۔

ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں اس حوالے سے سوال پر قومی ٹیم کے سابق کپتان اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ میرا ہمیشہ سے یہی موقف رہا کہ بار بار کی تبدیلیوں سے پاکستان کرکٹ میں جاری ترقیاتی عمل اور مثبت سرگرمیاں بْری طرح متاثر ہوتی ہیں، ہمارے ملک میں حکومت تبدیل ہو تو نئے ارباب اختیار اپنی سوچ لے کر آتے ہیں، کرکٹ بورڈ میں بھی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔

انھوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کا سیٹ اپ تبدیل ہوا تو اگلے مرحلے میں مجھ سمیت سارا کوچنگ اسٹاف بھی بدل گیا، اس وقت بھی میں نے یہی بات کہی تھی کہ بار بار کی تبدیلیوں سے نظام کو نقصان ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ احسان مانی کے دور میں مصباح الحق کو ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مقرر کیا گیا، بعد ازاں ان سے سلیکشن کی ذمہ داریاں واپس لے لی گئیں،رمیز راجہ چیئرمین پی سی بی بنے تو مصباح الحق کے ساتھ بولنگ کوچ وقار یونس کو بھی استعفیٰ دینا پڑا،ثقلین مشتاق کو عبوری ہیڈ کوچ بنایا گیا جو اب مستقل طور پر ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔

Comments
Loading...