بھارت میں رواں ہفتے گرمی کی شدید لہر انتہائی پریشان کن قرار

دنئی دلی: بھارت میں شدید ہیٹ ویو کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے نہ صرف کروڑوں افراد متاثر ہوں گے بلکہ گندم کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ گرمی کی یہ غیر معمولی لہر پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے گی اور یوں درجہ حرارت 40 درجے سینٹی گریڈ سے اوپر تک رہے گا۔

بھارتی محکمہ موسمیات کے ماہرین نے کئی بری ریاستوں کے لیے ہیٹ ویو کی پیش گوئی کردی ہے۔ دوسری جانب برطانوی محکمہ موسمیات نے بھی کہا ہے کہ اگرچہ مون سون سے پہلے بھارت میں درجہ حرارت بڑھتا ہے لیکن اس بار غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ اضافہ وقت سے بہت پہلے رونما ہورہا ہے اور اس کی شدت بھی بڑھ سکتی ہے۔

اس سے قبل بھارت میں مارچ کا اوسط درجہ حرارت بھی بلند رہا ہے جو قومی اوسط کے مطابق 33.10 درجے سینٹی گریڈ تھا جبکہ 2010ء میں یہ اوسط درجہ حرارت 33.09 تھا۔

بھارتی موسمیاتی محکمے کے سائنسداں پروفیسر آر کے جینامانی نے کہا ہے کہ گرمیوں کی یہ لہر قابلِ توجہ ہیں کیونکہ یہ لانینا طرز پر واقع ہوئی ہیں جو عموماً دنیا بھر میں ماحول کو سرد کرنے کا کام کرتا ہے لیکن 2010ء کی گرمی ایل نینو کی مرہونِ منت تھی جو گرمی لاتا ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ماہر آرپیتا منڈل نے اسے پریشان کن قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ہوا میں نمی سے 32 سینٹی گریڈ 38 محسوس ہوگا۔ ’اس بار گرمی کی لہر دور دور تک محسوس ہوگی اور وسیع رقبے کو پکا کر رکھ دیں گی ان میں دو خطے شدید متاثر ہوں گے اول وسط شمال مغربی حصہ جبکہ دوسرا علاقہ راجستھان سمیت جنوب مشرقی علاقہ ہوگا جس میں آندھرا پردیش بھی شامل ہے۔

تمام ماہرین کا اتفاق ہے کہ یہ آب و ہوا میں تغیرات کا شاخسانہ ہے۔ اس سے ایک سال قبل کلائمٹ چینج پر بین الاقوامی پینل نے کہا تھا کہ پورے کرہِ ارض پر ہیٹ ویو عام ہوں گی اور ان کی شدت میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ اس میں مقامی آب و ہوا کے پیٹرن بھی ایک کردار ادا کررہے ہیں۔

پروفیسر جینامانی کے مطابق اس موسم میں بحیرہ روم سے طوفانی ہوائیں بھارت میں بارشیں لاتی ہیں اور اس بار یہ سسٹم بہت کمزور دیکھا گیا ہے۔ شمالی بھارت میں اس کے صرف پانچ واقعات ہوئے اور بارشیں نہ ہونے کے برابر ہوئی ہیں۔ گردچمک کے ساتھ بارشیں بھی خال خال ہیں۔ شاید اس کی وجہ طویل لانینا ہے جس کے اثرات بھارت پر ہوئے ہیں۔

ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ بھارت میں گرم دنوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور سال 2011ء سے 2020ء تک 413 ہیٹ ویوز ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ گرم اوقات باہر کام کرنے والے افراد یعنی مزدور، ڈرائیور اور کسانوں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہیں۔ پھر گرمی کی لہرگندم کی پیداوار کرنے والے علاقوں کو شدید متاثر کرسکتی ہیں جن میں پنجاب، اترپردیش اورہریانہ شامل ہیں۔ بلند درجہ حرارت گندم کو شدید نقصان پہنچائے گا۔

Comments
Loading...