ریشم اوراسٹیم سیل سے شکستہ پٹھوں کی مرمت میں کامیابی

لاس اینجلس: سائنسدانوں نے اصلی ریشم کے ٹکڑے پر اسٹیم سیل ڈال کر ایک پیوند نما پھایہ بنایا ہے جو بالخصوص متاثرہ پٹھوں کے ان حصوں کی مرمت کرسکتا ہے جو ایک باریک جھلی نما پرت سے جڑے ہوتے ہیں۔

گوشت کو ہڈیوں سے چپکانے والی لچکدار چپچپی جھلیاں ٹٰینڈن کہلاتی ہیں جو متاثر ہوجائیں تو مشکل سے صحت یاب ہوتی ہیں اور بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ لیکن یہ انقلابی پیوند انہیں دوبارہ ٹھیک کرسکتا ہے۔

لاس اینجلس میں واقع تیراساکی انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ ریشم کے تانے بانے سے تشکیل کردہ ایک پیوند پر اسٹیم سیل بچھاکر استعمال کرنے سے ٹٰنڈن کے خلیات اور پرت کی دوبارہ افزائش کی جاسکتی ہے۔ کھلاڑیوں اور بزرگ افراد میں ٹینڈن بار بار متاثر ہوتے ہیں جنہیں ٹھیک ہونے میں مہینوں بھی لگ سکتے ہیں۔ اگر مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ دیگر پٹھوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

 

نئی ٹیکنالوجی میں پہلے ریشم سے بنا ایک ٹکڑا لیا گیا جس پر مشہور ہائیڈروجل (جیل ما) لگایا گیا تاکہ وہ مضبوط ، لچکدار اور بدن کے لیے قابلِ قبول بن سکے۔ پھر اس میں خلیاتِ ساق کی ایک قسم میسنکائما اسٹیم سیل (ایم ایس سی) کو ڈالا گیا۔

پھر انہیں چوہوں کی ایڑھی (آچلی) کے اوپر آزمایا گیا۔ یہاں ان کا جادو سر چڑھ کر بولا اور چوٹ مندمل ہونے کا عمل تیز ہوگیا۔ جبکہ نئے خلیات بھی تشکیل پانے لگے۔ ایک وقت آیا کہ ریشم کے دھاگے بھی اس کا حصہ بن گئے جبکہ ہائیڈروجل اپنا کام کرکے ازخود گھل کر ختم ہوگیا۔

ماہرین پرامید ہیں کہ اس طرح پٹھوں کے علاج کا نیا طریقہ سامنے آئے گا۔

Comments
Loading...