پاکستانی معشیت میں گزشتہ پانچ سالوں میں کیا تبدیلی آئی؟

1
شرح نمو
پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار یعنی شرح نمو 5.28 فیصد ہے جو کہ گزتہ 9 برسوں کے دوران سب سے زیاد ہے۔ مالی سال 07-2006 کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار سب سے زیادہ یعنی 6.8 فیصد تھی۔ موجود حکومت نے اپنے دور میں معاشی ترقی (شرح نمو) کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا تھا جو کہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔
2
مہنگائی
14-2013 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 8.62 فیصد تک تھی لیکن موجودہ حکومت اس میں خاطرخواہ کمی کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ مالی 16-2015 میں مہنگائی کی رفتار 2.82 فیصد تک کم ہو گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس میں اضافہ دیکھا گیا جنوری 2018 میں مہنگائی کی شرح 4.4 فیصد تک تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔
3
بجٹ خسارہ
13-2012 کے بعد سے حکومت مالی خسارے (حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق) میں بھی خاطرخواہ کمی کرنے میں کامیاب رہی۔ مالی سال 13-2012 کے دوران حکومت کا مالی خسارہ 8.2 فیصد تھا جو کہ گزشتہ مالی سال 5.8 فیصد رہا۔ لیکن آئی ایم ایف کی رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال حکومت کا بجٹ خسارہ 6 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ اس کا ہدف 4.1 فیصد رکھا گیا تھا۔ آئی ایم ایف نے بھی مالی خسارے کو کل ملکی پیدوار 6.3 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
4
ترسیلات زر
غیرملکی ززمبادلہ کے ذخائر 14-2013 میں 15.8 ارب ڈالر تھے جو کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بڑھ کر 19.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 9.7 ارب ڈالر پاکستان بھیجے جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 2.5 فیصد زیادہ تھے۔ اگرچہ، مجموعی طور پر بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ میں اضافہ ہوا تاہم سعودی عرب سے اس میں کمی دیکھی گئی۔ سعودی ارب سے ترسیل زر گزشتہ چھ ماہ کے دوران 7.5 فیصد کی کمی سے 2.35 ارب ڈالر رہی۔
Comments
Loading...