ایمنسٹی اسکیم پر تنقید کرنیوالوں کو چیلنج کرتا ہوں وہ اپنا ٹیکس بتائیں: وزیراعظم

خاران: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر تنقید کرنے والوں کو کھلا چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنے ٹیکس کےبارے میں بتائیں اور دعوے سے کہتا ہوں کوئی شخص تنقید کے قابل نہیں ہوگا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خاران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کہیں بھی جائیں اور اسکیم دیکھیں وہاں نوازشریف اور(ن) لیگ کی اسکیم ملے گی، ہمیشہ سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ وسائل پہلے نہیں تھے اور پہلے حکومتیں نہیں تھیں، ملک میں آمریت اور دوسری حکومتیں رہیں لیکن کوئی کام نظر نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف ترقی کا دوسرا نام ہے، ملک میں ترقی ہوتی رہے گی، (ن) لیگ نے ثبوت دیا ہےکہ حکومتی وسائل وہاں خرچ ہونے چاہئیں جہاں زیادہ ضرورت ہے، اس وقت 1500 کلو میٹر سڑکیں بلوچستان میں بن رہی ہیں، ہزاروں کلو میٹر مکمل ہوچکی، یہ منصوبے صوبے کو ہمیشہ کے لیے ترقی دیں گے۔

ویراعظم کا کہنا تھا کہ ترقی جھوٹے وعدوں سے نہیں ہوتی، ترقی سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے، (ن) لیگ نے ثابت کیا کہ وہ ترقی کے لیے کام کرنے والی جماعت ہے، اگر پاکستان میں عوام کے ووٹ سے یہی لیڈر شپ رہی جو ملک سے مخلص ہے اور عوامی مسائل حل کرنا چاہتی ہے، تو وہ وقت دور نہیں جب بلوچستان پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہوگاکیونکہ اس حکومت نے جتنی کوشش بلوچستان کے لیے کی اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ملک میں امن کی ضرورت تھی، ہم نے سیاسی طور پر سب کو اکٹھا کیا، فوج نے پوری جرات سے مقابلہ کیا، ہمارے ہزاروں جوان شہید ہوئے لیکن اس کا اثر یہ ہے کہ آج پورے پاکستان میں امن ہے۔

ان کا کہنا تھا ایک فیصلہ جولائی میں آپ کے پاس آئے گا وہ اگلے پانچ سال کے لیے ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہوگا، آج سیاست میں عوام سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں، عوام جانتے ہیں سیاست کا کیا معیار ہے، ایک طرف (ن) لیگ کی سچ اور خدمت کی سیاست ہے، دوسری طرف گالیوں اور جھوٹ کی سیاست ہے، اگر عوام کو گالیوں کی سیاست چاہیے تو وہ لوگ موجود ہیں، اگر سچ کی سیاست چاہیے تو وہ لوگ بھی موجود ہیں، آج بدقسمتی ہے کہ گالیاں دینے والے اس حد کو پہنچ گئے کہ ان کی گالیاں ختم ہوگئیں لیکن عوام سے پذیرائی نہیں ملی، اب کرائے کے گالیاں دینے والے لائے ہیں، ایسے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں گالیوں کی سیاست کو عوام رد کرچکے، اب جولائی میں بھی رد کریں گے، پاکستان میں جہوریت ہے اور رہے گی۔

سینیٹ الیکشن کا ذکر

وزیراعظم نے ایک بار پھر سینیٹ الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں ہم نے کچھ نہیں کہا، ایک جماعت کے سربراہ نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ میرے ایم پی اے فلاں آدمی خرید کر لے گیا، جب چیئرمین سینیٹ پر بات آئی تو دونوں اکٹھے تھے، جب الیکشن ہوگیا اور جس کے آدمی بکے تھے اس نے کہا میں نے خریدنے والے کا ساتھ نہیں دیا، اب خریدنے والا کہہ رہا ہے اس نے ہمارا ساتھ دیا تھا، عوام ایسے لوگوں کو پہچان گئے، پہلے یہ ایک دوسرے کو دیکھ لیں، کون سچ اور کون جھوٹ بول رہا ہے، جو ایک دوسرے سے مخلص نہیں اگر انہیں حکومت مل گئی وہ ملک کے ساتھ کیا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی سودے بازی نہیں کی، جولائی میں پہلے سے زیادہ سیٹیں لے کر کامیاب ہوں گے۔

ایمنسٹی اسکیم پر چیلنج

وزیراعظم نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ ٹیکس اصلاحات کا انقلابی قدم اٹھایا گیا، اس کا ایک مقصد ہے ملک میں وہ لوگ جو وسائل رکھتے ہیں ان کے کاروبار ہیں وہ ٹیکس ادا کریں، ہم نے ان کے لیے سہولت پیدا کی، ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انکم ٹیکس کی شرح کو آدھے سے بھی کم کردیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم ایک انقلابی قدم ہے، یہ ایک قدم پاکستان کی معیشت کو وہ وسائل دے گا جو اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیئے، ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، ضرورت اس بات کی ہے سب متفق ہوں، اس پر تنقید کی کوئی گنجائش نہیں، وہ تنقید کس بات پر کررہے ہیں کہ ٹیکس کے ریٹ کم کیے گئے، جس نے تنقید کرنی ہے پہلے یہ بتائے وہ ٹیکس کتنا ادا کرتا ہے، ایسے لوگوں کو کھلا چیلنج کرتا ہوں عوام کو بتائیں کہ انہوں نے کتنا ٹیکس ادا کیا، دعوے سے کہتا ہوں کوئی شخص آکر تنقید کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔

دورہ کابل پر بات

وزیراعظم نے گزشتہ روز دورہ کابل سے متعلق کہا کہ افغان قیادت سے کھل کر بات ہوئی، انہیں کہا کہ دنیا میں پاکستان سے زیادہ کوئی ملک نہیں جو افغانستان میں امن چاہتا ہو، وہاں امن ہم سب کے لیے امن و خوشحالی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ 40 سال سے افغانستان میں جنگ جاری ہے، جنگ افغانستان کے مسائل کا حل نہیں، افغان مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہےکہ افغان بیٹھیں اور آپس میں بات چیت کرکے اپنے مسائل حل کریں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم افغان عمل اور مذاکرات میں پوری مدد کرنے کو تیار ہیں اور یہ ہم پر لازم ہے، ہم چاہتے ہیں وہاں امن ہو۔

Comments
Loading...