4650 ارب ٹیکس ہدف، بجٹ کا ابتدائی مسودہ تیار

اسلام آباد: 

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کیلیے ٹیکس وصولیوں کے اہداف سمیت ٹیکس تجاویزکا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے مطابق وفاقی بجٹ میںنان فائلرز کا گھیرا تنگ کیا جا رہاہے، ٹیکس شرح میں اضافہ اور مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے ریونیو و وفاقی وزیرہارون اخترکی زیر صدارت ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں آج اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ مسودہ پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں ایف بی آرکے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی، ممبران لینڈ ریونیو آپریشن، ممبر کسٹمز اور ممبر آڈٹ سمیت دیگر ممبران شرکت کریںگے۔ تمام ممبران بجٹ تجاویز کے حوالے سے اپنی رائے دیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جو ابتدائی خدوخال تیارکئے گئے ہیں اس کے مطابق ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4650 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال 2017-18 کیلیے ٹیکس وصولیوںکا ہدف 4025 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا جس پر نظرثانی کرتے ہوئے 3900 ارب روپے کر دیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں آج چھُٹی کے باوجود اجلاس ہوگا۔ ایف بی آرکے ممبران رواں مالی سال کی کارکردگی اور اگلے مالی سال کیلیے مرتب کردہ بجٹ تجاویزکے بارے میں پریذنٹیشن دیںگے۔

آج اجلاس میں زیر بحث آنیوالی بجٹ تجاویزکوکل اتوار کو ہونے والے چیف کمشنرز اجلاس میں بھی زیر بحث لایا جائیگا جس کے بعد انہیں حتمی شکل دی جائیگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کیلیے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کی شرح پندرہ سے سترہ فیصد مقررکئے جانے کا امکان ہے جبکہ لگژری اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کی توقع ہے تاہم سیلز ٹیکس کی سترہ فیصد کی معیاری شرح برقرار رکھی جائے گی۔

ٹیکس قوانین کو سادہ و آسان بنانے کیلیے ٹیکس قوانین میں اہم ترامیم کی جا رہی ہیں جبکہ تنخواہ دار ملازمین پر مشتمل انفرادی ٹیکس دہندگان کیلیے نئی ٹیکس سلیبز متعارف کرائی جا رہی ہیں جس کے تحت انہیں خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔

Comments
Loading...