نقیب قتل کیس ،چیف جسٹس کی راﺅانوارکی گرفتاری کےلئے 3دن کی مہلت

بتایاجائے راﺅانوار بارڈرسے فرارتونہیںہوا؟وزارت داخلہ ،سول ایوی ایشن حکام سے رپورٹ طلب، ایماندار افسران کوناکام نہیںہونے دینگے
جوڈیشل انکوائری کی درخواست مسترد،آئی جی اورجے آئی ٹی پراعتبارکریں،جسٹس ثاقب نثارکے ریمارکس، گرفتاراہلکاروںکا7روزہ ریمانڈمنظور
کراچی(آن لائن)چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی سندھ کو تین دن میں راو¿ انوار کی گرفتاری یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاون میں جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ محسود کو ہلاک کیا گیا اور سابق ایس ایس پی راو¿ انوار نے نقیب کے دہشت گرد ہونے کا دعویٰ کیا تھا جو غلط ثابت ہوا۔چیف جسٹس پاکستان نے نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا از خود نوٹس لیا تھا اور راو¿ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے انہیںعدالت طلب کیا تھا۔آئی جی سندھ کی جانب سے تشکیل دی گئی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے گزشتہ روز تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، چیف سیکریٹری، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر آئی جی سندھ نے پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی۔اس موقع پر چیف جسٹس نے سوال کیا، کہ کیا راو¿ انوار عدالت میں ہیں؟ اس پر آئی جی سندھ نے بتایا نہیں وہ مفرور ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے راو¿ انوار کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا انہیں ہر صورت پیش ہونا چاہیے تھا۔چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی سندھ سے استفار کیا، کہ آپ نے راو¿ انوار کو گرفتار کرنے کی کیا کوشش کی؟ اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ انہیں گرفتار کرنے کی ہرطرح کوشش کی جاچکی ہے، راو¿ انوار اسلام آباد میں تھے جب تک مقدمہ درج نہیں تھا۔چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے استفسار کیا کہ بتائیں کہ 15 دن میں راو¿ انوار نے بیرون ملک سفر تو نہیں کیا، یہ بھی بتائیں کیا راو¿ انوار نے نجی طیارے میں سفر کیا کہ نہیں، آپ کیوں تفصیلات ساتھ نہیں لائے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کس کے طیارے آپ کے پاس ہیں، نام بتائیں، تمام چارٹرڈ طیارے رکھنے والے مالکان کے حلف نامے پیش کریں، بتایا جائے کہ ان کے طیاروں میں راو¿ انوار گیا کہ نہیں۔چیف جسٹس نے راو¿ انوارکے بیرون ملک سفر کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ سے جواب طلب کر لیا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جمعرات تک وزارت داخلہ اور سول ایوی ایشن حکام رپورٹ جمع کرائیں، بتایا جائے کہ راو¿ انوار بارڈر سے فرار تو نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا یہ بتائیں خواجہ صاحب، کراچی میں کسی نے راو¿ انوار کو چھپایا تو نہیں، آئی جی صاحب کہیں راو¿ انوار ملک سے فرار تو نہیں ہوگیا۔اس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ ممکن ہے فرار ہوگیا ہو لیکن ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا، وقت نہیں دے سکتا لیکن ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں کتنا وقت چاہیے، جو ایماندار افسران ہیں انہیں ناکام نہیں ہونے دیں گے، آپ آزادی سے کام کریں کسی کے دباو¿ میں نہ آئیں، یہاں بھی بڑے بڑے چھپانے والے موجود ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ٹائم فریم دیں، یا پتا کریں کہاں گیا راو¿ انوار، یہ تو نہیں کہ جہاں راو¿ گیا وہ آپ کی پہنچ میں نہیں۔آئی جی سندھ نے عدالت سے استدعا کی کہ تین دن کا وقت دیں جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ٹھیک ہے تین دن میں گرفتاری یقینی بنائیں۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے نقیب اللہ کے والد محمد خان کو بلا لیا۔نقیب اللہ کے والد نے چیف جسٹس نے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جوڈیشل انکوائری مسئلے کا حل نہیں، جوڈیشل کمیشن کرمنل کیسز کی انکوائری نہیں کرسکتا، آئی جی اور جے آئی ٹی پر اعتبار کریں۔چیف جسٹس نے نقیب کے والد سے مکالمہ کیا کہ نقیب اللہ محسودقوم کا اور ہمارا بچہ تھا، ریاست کو قتل عام کی اجازت نہیں دے سکتے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں نقیب کیس کی سماعت کے موقع پر پختون قومی جرگہ کے عمائدین عدالت کے باہر پہنچے۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھائے ہوئے تھے جس پر نقیب اللہ کیس کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔رواں ماہ 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاو¿ن میں سابق ایس ایس پی ملیر راو¿ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔بعدازاں 27 سالہ نوجوان نقیب محسود کے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں راو¿ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث 6 پولیس اہلکاروں کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے، تمام اہلکار ملیر کے سچل تھانے میں تعینات تھے۔ہفتہ کو کراچی پولیس نے نقیب اللہ کیس میں گرفتار اہلکاروں کو سندھ ہائیکورٹ کے انتظامی جج کی عدالت میں پیش کیا جہاں ان کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔ذرائع کے مطابق ان میں سب انسپکٹر محمد یاسین، اسسٹنٹ سب انسپکٹر فرحت حسین، اے ایس آئی اللہ یار، ہیڈ کانسٹیبل خضرت حیات، ہیڈ کانسٹیبل محمد اقبال اور کانسٹیبل ارشد علی شامل ہیں،

Comments
Loading...