سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق:نادرا کو سافٹ وئر بنانے کا حکم:میمو گیٹ کی فائل طلب(حسین حقانی وطن آکر مقدمے کا سامنا کریں ،چیف جسٹس)

مجوزہ سپر
تارکین وطن کو آنے والے انتخابات میں ووٹ کی سہولت فراہم کرنے کا تحفہ دیں، اس معاملے میں کوئی مشکل آتی ہے تو عدالت تعاون کرےگی ، ہمارا اصل مقصد تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے
تنقید کے باوجود ڈلیور کر رہے ہیں ،جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس : نادرا کی اپریل تک سافٹ ویئر تیار کرنے کی یقین دہانی ، پاکستانیوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کےلئے اپنے سفارتخانوں میں جانا ہوگا ¾چیئر مین نادرا
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران رجسٹرار آفس سے میمو گیٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے میموگیٹ کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہاکہ کیا حسین حقانی کوبھی ووٹ ڈالنے کی سہولت ملے گی؟ کیوں نہ حسین حقانی کو نوٹس جاری کیا جائے تاکہ وہ وطن واپس آ کر میمو گیٹ کا سامنا کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اوورسیزپاکستانیوں کی حمایت کی دعویدار تحریک انصاف انتخابی اصلاحات ایکٹ کی منظوری کے وقت کدھر تھی ؟اسمبلی میں معاملے کیوں نہیں اٹھایا؟ ۔چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اوورسیزپاکستانیوں کوووٹ کا حق دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ مقصد تارکین وطن کوووٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے تاہم ایک پاکستانی ایسے بھی ہیں جوعدالت سے وعدہ کرکے وطن واپس نہیں آئے ، کیا حسین حقانی کوبھی ووٹ ڈالنے کی سہولت ملے گی، کیوں نا حسین حقانی کونوٹس کرکے بلا لیں تاکہ وہ میموگیٹ مقدمے کا سامنا کریں ،چیف جسٹس نے رجسٹرارآفس سے میمو گیٹ مقدمے کی فائل طلب کرلی ۔واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں اس وقت امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کا ایک مبینہ خط سامنے آیا تھا جس کے بعد حکومت نے حسین حقانی سے استعفیٰ لیا تھا جبکہ حسین حقانی تب سے بیرون ملک مقیم ہیں۔میاں ثاقب نثار نے کہا کہ تعلیم، رہنما اور قانون کی حکمرانی قوم کی تقدیر بدل دیتی ہے کیونکہ جن کے پاس علم تھا انہوں نے دنیا پر حکمرانی کی، مجھے ملک کے بچوں کا مستقبل بہت بہتر نظر آرہا ہے۔سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نادرا کی جانب سے 2012 میں ایک سافٹ ویئر تیار کیا گیا تھا جس پر چیئرمین نادرا نے کہا کہ وہ سافٹ ایئر کارآمد نہیں تھا تاہم نئے سافٹ ویئر کے تحت پاکستانیوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کےلئے اپنے ماتحت سفارتخانوں میں جانا ہوگا۔خیال رہے کہ عام شہریوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں مختلف درخواستیں دائر کی گئیں تھیں جن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانیوں کی تعداد تقریبا 80 لاکھ ہے، لہذا انہیں ووٹ کا حق دیا جائے۔بعد ازاں عدالت عظمی نے رواں ماہ 5 جنوری کو ان درخواستوں کو سماعت کےلئے منظور کرلیا تھا۔گزشتہ سماعت کے دوران سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تھا کہ ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو بہتری کی بجائے الجھن پیدا کرے۔یاد رہے کہ 16 جنوری کو سپریم کورٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو انتخابات میں حق رائے دہی دینے سے متعلق مقدمے میں پی ٹی آئی کی جانب سے فریق بننے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو اس حوالے سے الگ درخواست دائر کردیں۔
ووٹ کا حق

Comments
Loading...