حسن علی کی پی ایس ایل کے ابتدائی دو میچوں میں شرکت مشکوک

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی کی انجری کے حوالے سے خدشات اور قیاس آرائیاں ختم ہوگئی ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ حسن علی چار ہفتے کے لئے ان فٹ ہوگئے ہیں اور پشاور زلمی کی جانب سے پاکستان سپر لیگ کے ابتدائی دو میچوں میں ان کی شرکت کا امکان بہت کم ہے۔

مکی آرتھر نے آکلینڈ سے بتایا کہ حسن علی کو فزیو ویب سنگھ نے چار ہفتے کرکٹ نہ کھیلنے کا مشورہ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ فاسٹ بولر سرفراز احمد کے ساتھ جھگڑے کی وجہ سے ٹیم سے ڈراپ ہوئے تھے جبکہ کپتان کو نظر انداز کرنے کا تاثر بھی درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حسن علی کی انجری حقیقی تھی جس کی وجہ سے انہیں تیسرے میچ میں ڈراپ کیا گیا تھا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی کے آغاز سے قبل اس وقت شدید دھچکہ لگا تھا جب فاسٹ بولر حسن علی ان فٹ ہوکر میچ میں شریک نہ ہوسکے تھے۔

کپتان سرفراز احمد نے حسن علی کی عدم شرکت کو بڑا نقصان قرار دیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق میچ سے ایک دن پہلے پریکٹس کے دوران فٹ بال کھیلتے ہوئےحسن علی کا ٹخنہ مڑ گیا تھا۔

پاکستانی ٹیم کے فزیو ویب سنگھ نے حسن علی کو فوری طبی امداد فراہم کی اور ان کی جگہ عامر یامین کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

مکی آرتھر پاکستانی کھلاڑی کی فٹنس کے حوالے سے ہمیشہ تشویش میں مبتلا رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے غیر ملکی لیگز کے لئے پالیسی بنانا شروع کردی ہے۔

مستقبل میں سینٹرل کنٹریکٹ والے کھلاڑیوں کو ہر غیر ملیکی لیگ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مکی آرتھر کے مطابق کھلاڑی ٹیم سے دور رہتے ہیں تو اپنی فٹنس پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں پانچ ہفتے کے دورے کے بعد بھی ہیڈ کوچ نے کھلاڑیوں کو فٹنس میں اعلیٰ معیار قائم رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مکی آرتھر میٹنگز میں کہہ چکے ہیں کہ کھلاڑی غیر ملکی لیگز ضرور کھیلیں لیکن انہیں اپنی فٹنس پر کام کرنا ہوگا۔

مکی آرتھر فاسٹ بولر محمد عامر اور آل راونڈر محمد حفیظ کی جانب سے غیر ملکی لیگز میں کھیلنے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ ان کی تمام تر توجہ آئندہ سال ورلڈ کپ پر ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ورلڈ کپ تک کھلاڑی اپنی فٹنس قائم رکھیں۔

مکی آرتھر نے تیسرے ٹی ٹوئینٹی کے بعد کہا کہ جب کھلاڑی پانچ ہفتے ہم سے دور رہتے ہیں تو وہ اپنی فٹنس قائم نہیں رکھتے، کھلاڑی اضافی پیسے ضرور کمائیں لیکن اپنی فٹنس پر بھی توجہ دیں۔

ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ جب کھلاڑی ٹیم سے دور ہوتے ہیں وہ ٹیم انتظامیہ کے پلان کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی توئنٹی سیریز فٹنس کی وجہ سے جیتی لیکن ون ڈے میچوں کے لئے جب کھلاڑی نیوزی لینڈ پہنچے تو وہ مکمل فٹ نہیں تھے۔

ذرئع کا کہنا ہے کہ مکی آرتھر ٹی ٹین لیگ میں بھی کھلاڑی کی شرکت کے خلاف تھے۔

Comments
Loading...