جولائی تا دسمبر، غیر ملکی سرمایہ کاری پر 1.2 ارب ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل

کراچی: پاکستان سے غیرملکی سرمایہ کاری پر رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے اندر 1ارب 20 کروڑ20 لاکھ ڈالر کا منافع اور ڈیویڈنڈ بیرون ملک بھیجا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 92 کروڑ 84 لاکھ ڈالر کے منافع کی منتقلی سے 27 کروڑ 36 لاکھ ڈالر یا 29.47 فیصد زائد ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2017 کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) سے 1ارب 5 کروڑ 54 لاکھ ڈالر اور ایف پی آئی 14 کروڑ 66 لاکھ ڈالر بطور منافع بیرون ملک بھیجے گئے، گزشتہ 6 ماہ کے اندر ملک میں 1ارب 38 کروڑ 17لاکھ ڈالر کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی گئی۔

اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2017 کے دوران سب سے زیادہ منافع فنانشل بزنس سے 17 کروڑ57لاکھ ڈالر بیرون ملک منتقل کیاگیا مگر یہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 17کروڑ98 لاکھ ڈالر کے منافع کی بیرون ملک منتقلی سے کم ہے، اس دوران کمیونی کیشن سیکٹر سے 16کروڑ 66 لاکھ ڈالر کا منافع باہر بھیجا گیا جبکہ گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے دوران اس مد میں صرف 1کروڑ40 لاکھ ڈالر بیرون ملک منتقل کیے گئے تھے، پاور سیکٹر سے گزشتہ 6ماہ میں 14کروڑ 14لاکھ ڈالر کا منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا۔

یہ سارا سرمایہ تھرمل پاور سیکٹر سے بھیجا گیا جبکہ گزشتہ سال بھی تھرمل پاور سیکٹر سے منافع کی بیرون ملک منتقلی ہوئی تھی جس کی مالیت 8 کروڑ 86 لاکھ ڈالرتھی، شعبہ خوراک سے منافع کی منتقلی 7کروڑ30 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 12کروڑ 98 لاکھ ڈالر رہی جبکہ آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کے شعبے سے غیرملکی سرمایہ کاروں نے منافع کی بیرون ملک منتقلی سال بہ سال63.9 سے بڑھا کر  13 کروڑ 1لاکھ ڈالر تک پہنچا دی۔

سیمنٹ سیکٹر سے 5کروڑ 60 لاکھ ڈالر نکالے گئے جو پہلے 4 کروڑ 42 لاکھ ڈالر تک محدود تھے اور ٹرانسپورٹ ایکویپمنٹ (آٹوموبائل) سیکٹر سے منافع کا انخلا 6 کروڑ 66 لاکھ ڈالر کے مقابل6 کروڑ 67 لاکھ ڈالر رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبرمیں غیرملکی سرمایہ کاری پر 26کروڑ 57 لاکھ ڈالر کا منافع باہر بھیجا گیا۔

Comments
Loading...