امریکہ کا ایک ہزار کمانڈوزافغانستان بھیجنے کا فیصلہ

افغانستان میں طالبان کے حملوں کی تازہ لہر کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فسٹ سیکیورٹی فورس اسسٹنس بریگیڈ (ایس ایف اے بی) کے ایک ہزار کمانڈوز کو فوری طور پر افغانستان بھیجنے کیلئے سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے ، اس حوالے سے آئندہ چند روز میں حتمی فیصلے کا اعلان بھی کردیا جائے گا۔

واشنگٹن :  امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل میں یکے بعد دیگر حملوں کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ نے ایس ایف اے بی کی خصوصی ٹریننگ کے دوراینے میں غیر معمولی کمی کردی ہے ۔ایس ایف اے بی فورس کے کمانڈر کرنل اسکوٹ جیکسن نے صحافیوں کو بتایا کہ ایس ایف اے بی کی انتہائی حساس ٹریننگ امریکی شہر لولیزیانا میں جاری ہے لیکن افغانستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں ان کی ٹریننگ میں 6 ماہ کی تخفیف کردی گئی ہے تاکہ انہیں افغانستان میں تعینات کیا جا سکے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب جلد بازی یا تیزی برتی جائے تو معیار پر فرق پڑتا ہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ٹرمپ نے دنیا کی تمام اقوام پر زور دیا تھا کہ وہ کابل میں دہشت گردی کے حملے میں 103افراد کو ہلاک کرنے والے طالبان کے خلاف جنگ کریں۔ان کا یہ مطالبہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے سامنے آیا تھا، جہاں اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کابل حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم طالبان کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔خبر کے مطابق واشنگٹن افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو 8500 سے بڑھا کر 14 ہزار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔دوسری جانب امریکی سیکریٹری دفاع ریکس ٹلرسن کی جانب سے بھی جاری بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو دہشت گردوں کی حمایت یا انہیں پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں انہیں اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔

Comments
Loading...