نہال ہاشمی توہین عدالت کے مرتکب قرار، ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا

اسلام آباد:  سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی، جس کے بعد وہ 5 سال کے لیے نااہل ہوگئے۔

عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے سینیٹر نہال ہاشمی کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا، ذرائع کے مطابق انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا جائے گا۔

سینیٹر نہال ہاشمی نے گزشتہ برس کراچی میں ایک عدلیہ مخالف تقریر کی تھی، جس پر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس باقر مقبول پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج سینیٹر نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی اور نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

توہین عدالت کیس کا فیصلہ 2-1 کے تناسب سے آیا، کیس کا فیصلہ جسٹس آصف کھوسہ نے پڑھ کر سنایا جبکہ جسٹس دوست محمد فیصلے میں خاموش رہے۔

واضح رہے کہ 24 جنوری کو مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران  نہال ہاشمی نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی تھی، لیکن عدالت نے ان کی معافی پر اعتراض اٹھادیا تھا۔

نہال ہاشمی کی عدلیہ مخالف تقریر

واضح رہے کہ نہال ہاشمی کی گذشتہ برس 28 مئی کو کراچی میں کی گئی ایک تقریر کی ویڈیو منظرعام پر آئی تھی، جس میں انھوں نے پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی ارکان کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا تھا۔

مذکورہ ویڈیو میں نہال ہاشمی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ‘حساب لینے والے آج حاضر سروس ہیں، کل ریٹائر ہوجائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنا دیں گے’۔

انھوں نے مزید کہا تھا، ‘اور سن لو جو حساب ہم سے لے رہے ہو، وہ تو نواز شریف کا بیٹا ہے، ہم نواز شریف کے کارکن ہیں، حساب لینے والوں! ہم تمھارا یوم حساب بنا دیں گے۔’

ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اسے نہال ہاشمی کی ذاتی رائے قرار دیا گیا تھا اور پارٹی صدر اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے نہال ہاشمی سے سینیٹر شپ سے مستعفی ہونے کو کہا تھا جبکہ ان کی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

Comments
Loading...