مذہب کو سیاست اور ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا رجحان پاکستان میں بڑھ رہا ہے ڈاکٹر قبلہ ایاز

اسلام آباد(آن لائن)اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ مذہب کو سیاست اور ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا رجحان پاکستان میں بڑھ رہا ہے جس کو روکنے کیلئے قانون سازی کے ساتھ معاشرتی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرویو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مذہب کو سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اب یہ مسئلہ نچلی سطح تک بھیپہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عام لوگ جو عالم یا مفتی نہیں ہوتے ہیں وہ بھی اپنے ذاتی مقاصد کیلئے دوسروں پر نعوذباللہ توہین قرآن یا توہین رسالت کا الزام لگا دیتے ہیں یا پھر مذہب کی توہین کا الزام لگایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ جذباتیت در آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں شبقدر کالج میں ایک طالب نے مذہب کا نام لیکر پرنسپل کو قتل کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل مذہب کو سیاسی یا ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کو روکنے کیلئے قانون سازی کر رہا ہے تاہم محض قانون سازی سے اس سنگین مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے بلکہ اس کیلئے ملک کے مختلف اداروں کے مابین معاشرتی تعاون بے حد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کسی پر توہین مذہب،رسالت یا قرآن کا جھوٹا الزام لگا دیا جاتا ہے تو اس کی زندگی عذاب بن جاتی ہے اور بعض اوقات معاملہ قتل تک جا پہنچتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر توہین کا غلط الزام لگا دیا جائے تو اس کیلئے بھی سخت ترین سزا ہونی چاہئے تاہم اس مسئلے کے حل کیلئے مسجد ، منبر ومحراب،میڈیا،نصاب اور دیگر ذرائع سے عوام کو آگاہی دینا بے حد ضروری ہے#/s#۔(ولی/اعجاز خان)
نظریاتی کونسل

Comments
Loading...