ترک صدر اور پاپائے روم کا بیت المقدس کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے کی حمایت کا اعلان

القدس کے تاریخی سٹیٹس کو چھیڑنے کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں، پاپائے روم
امریکہ پر اپنا سفارتخانہ القدس منتقل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کیلئے دباﺅ ڈالونگا، طیب رجب اردوان سے گفتگو
ویٹی کن (این این آئی) ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور پاپائے روم فرانشیسکو نے مقبوضہ بیت المقدس کے تاریخی اسلامی اور عرب تشخص کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ القدس کے تاریخی اسٹیٹس کو چھیڑنے سے مشرق وسطیٰ میں امن ومان کے قیام کی مساعی کو غیرمعمولی نقصان پہنچ سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر نے ویٹیکن کے دورے کے دوران پاپائے روم سے ہونیوالی ملاقات کے دوران دوطرفہ امور، مغرب میں اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور اس کی روک تھام، مشرق وسطیٰ بالخصوص بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے اعلان پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔دونوں رہنماو¿ں نے القدس کے اسلامی اور تاریخی عرب تشخص کی حمایت کی اور القدس کے تاریخی اسٹیس کو برقرار رکھنے کےلئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کوششیں رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر پاپائے روم نے تسلیم کیاکہ مغربی دنیا میں اسلام فوبیا میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن وآشتی کا مذہب اور اس کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ترک صدر نے بھی عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ترک ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق ویٹیکن کے دورے کے دوران صدر ایردوآن نے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کے امریکی اعلان پر بات چیت کی۔ پاپائے روم اور ترک صدر نے القدس کا معاملہ عالمی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے القدس کے تحفظ کیلئے مشترکہ سیاسی، سفارتی اور قانونی کوششیں جاری رکھنے سے بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ پر اپنا سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کےلئے دباو¿ ڈالیں گے۔ویٹیکن سے جاری بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ صدر ایردوآن اور پاپائے روم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں القدس کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماو¿ں نے القدس کے حوالے سے بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ القدس کے تاریخی اسیٹیٹس کو چھیڑنے کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

Comments
Loading...