سپریم کورٹ طاقتور مجرم کٹہرے میں لائے،پوری قوم ساتھ کھڑی ہے ‘ عمران خان

عابد باکسر نے شہباز شریف کے کہنے پر ماورائے عدالت قتل کئے ، عدالت جائینگے، حکمران مجرموں کی سینیٹ بنانا چاہتے ہیں
نواز شریف کو چیلنج ہے ایک روز وہ جلسہ کریں ،اس سے اگلے روز اسی مقام پر جلسہ کرکے تین گنا زیادہ عوام کوا کٹھا کر کے دکھاﺅں گا
قرضوں کی وجہ سے پاکستان نے خود مختاری کھو دی، معاشی طور پر مضبوط ہوتے تو کیوں کسی ملک کی جنگ لڑتے‘ عمران
ایل این جی معاہدے کی کچھ دستاویزات عدالت میں پیش کرونگا‘ شیخ رشید : ٹیکسٹائل پالیسی ڈرافٹ کر لی ،اسد عمر کا خطاب
اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے ماڈل ٹاﺅن میں پولیس کے ذریعے 14 معصوم لوگوں کا قتل عام کرایا ¾ خیبرپختونخواہ پولیس پروفیشنل ہے‘ وزیراعلیٰ پولیس کو قانون توڑنے کے احکامات نہیں دے سکتا۔ جمعرات کو عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ خیبرپختونخواہ پولیس الگ اس لئے ہے کیونکہ وہ پروفیشنل ہے وزیراعلیٰ پولیس کو قانون توڑنے کے احکامات نہیں دے سکتا۔ کسی کو شک نہیں کہ کس نے ماڈل ٹاﺅن میں 14 معصوم شہریوں کا قتل عام کرایا یہ وجہ ہے کہ لوگ پنجاب پولیس سے خوفزدہ ہیں۔ سابق انکاﺅنٹر اسپیشلسٹ عابد باکسر کے مطابق شہباز شریف لوگوں کو ماورائے قانون قتل کرنے میں ملوث ہیں۔ سبزہ زار کیس میں پولیس نے شہباز شریف کے حکم پر پانچ جوانوں کو قتل کردیا اور قاتل کو پکڑا نہ جاسکا۔
ادھر لاہور میںپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت جس تیزی سے قرضے لے رہی ہے اس سے پاکستان اپنی خود مختاری کھو رہا ہے، دو مرتبہ امریکہ کے فرنٹ لائن اسٹیٹ بنے اگر معاشی طور پر مضبوط ہوتے تو کیوں کسی ملک کی جنگ لڑتے، پاکستان کو اس وقت بیر وزگاری اور برآمدات میں کمی جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے ،سو ٹیکسٹائل ملیں بند ہونے سے 10لاکھ افراد بیروزگار ہو ئے جس کا مطلب ہے کہ حکومت غلطی کر رہی ہے جس سے برآمدات میں کمی ہو رہی ہے ،ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور آمدن بڑھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے دفتر میں بز نس کمیونٹی کے اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، مرکزی رہنما اسد عمر ، اپٹما کے گروپ لیڈر گوہر اعجاز ، اپٹما کے چیئرمین عامر فیاض نے بھی خطاب کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے بزنس کمیونٹی کی دکھ بھری باتیں سنی ہیں ۔میرا جینا مرنا پاکستان کےلئے ہے، میں واحد سیاستداہوں جس نے بیس سال باہر کمائی کی لیکن سب کچھ بیچ کر پاکستان آیا ۔ جن لوگوں نے آج تک کوئی کمائی نہیں کی ان کی باہر کے ممالک میں اربوں روپے کی پراپرٹی ہے ۔ پاکستان میں بہت پوٹینشل ہے ، خیبر پختوانخواہ میں جو ساڑھے چار سال کا تجربہ حاصل ہوا اس سے معلوم ہے کہ اس ملک میں میرے اندازے سے بھی زیادہ پوٹینشل ہے۔ انہوںنے اقتصادی ترقی کے حوالے سے ترکی صدر طیب اردگان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دفتر میں سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے ون ونڈ و آفس قائم کیا جبکہ ہمارے لیڈرز کے ذہن میں ہے کہ امداد ملے۔ اسی وجہ سے ہماری خارجہ پالیسی دباﺅ میں ہے ۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ اسی لئے تکمیل تک پہنچ سکا کیونکہ ہمارے ڈونرز اسے مکمل ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ جب تک اداروں کو مضبوط نہیں کریں گے تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست ٹیکسز اس لئے اکٹھے نہیں کئے جاتے کیونکہ ایف بی آر ایک ادارہ نہیں بن سکا اور اسی لئے ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا نفاذ کر کے معاملات چلائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے لوگ ٹیکس دینے کے لئے تیار ہیں لیکن انہیں پتہ ہے کہ ان کے ٹیکس پر عیاشی ہوتی ہے اس لئے وہ اس سے اجتناب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے برآمدات کم ہو رہی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش اور سری لنکا ہم سے آگے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختوانخواہ میں ایک ارب درخت لگائے ہیں جنہیں عالمی اداروں نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ یہ درخت اشتہاروں میں نہیں بلکہ زمین پر لگائے گئے ہیں جبکہ یہاں پر صرف اشتہار لگتے ہیں جس میں چھوٹے اور بڑے بھائی کی تصاویر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سر کلرڈیٹ اس لئے بڑھا کیونکہ غلط لوگوں کی تعیناتیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انڈسٹری کو لیول پلینگ فیلڈ دیں گے تاکہ انڈسٹری گروتھ سکے گی، لوگوں کو روزگار ملے۔ انڈسٹری کو لانگ ٹرم پالیسی دیں گے وہ اس لئے کہ میرا کوئی مفاد نہیں اور نہ ہی میری کوئی انڈسٹری ہے۔اس موقع پر شیخ رشید نے کہا کہ آر ایل این جی معاہدے کا پرسوں سپریم کورٹ میں کیس لگ رہا ہے۔ تین ماہ تک کوششیں کیں لیکن اس معاہدے کی کوئی دستاویزات نہیں ملیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کی کوئی دستاویز ہی نہیں۔ دبئی سے ایک شخص نے کچھ دستاویزات دی ہیں جو عدالت میں پیش کروں گا۔ انہوںنے کہا کہ بہتر ین ایکسپورٹرکو ہی متعلقہ وزارت کا وزیر بننا چاہیے ۔اگر منی لانڈرنگ کرنے والے کو سہولت دیں گے تو ملک کے یہی حالات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں بیس سال بعد یہاں پر آیا ہوں لیکن آپ کے چہروں پر رونق نہیں ہے ۔ آپ صحیح آدمی کی بجائے غلط آدمی کے پیچھے کھڑے ہوں گے تو بال تو ٹھپا کھائے گی۔ عمران خان بہترین ہے اس کے پیچھے کھڑے ہوں اور اس کا ساتھ دیں۔اسد عمر نے کہا کہ اپٹما سے تجاویز لے کر ٹیکسٹائل پالیسی ڈرافٹ کی ہے اور انڈسٹری کو جن چیزوں کی ضرورت ہے پالیسی میں انہی کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قرضوں کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے جس سے نہ صرف اقتصادی مسائل پیدا ہوں گے بلکہ ملکی سالمیت کو بھی مسائل درپیش ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ خطے کے مقابلے پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتیں زیادہ ہیں ۔ ہماری پالیسی میں بجلی کے نرخ 7.5سینٹ جبکہ گیس کے لئے فی ایم ایم بی ٹی یو 6.6ڈالر تجویز کئے گئے ہیں

Comments
Loading...