بجٹ منظور نہ ہونے پر امریکی حکومت ایک مرتبہ پھر شٹ ڈاﺅن

سینیٹ نے سرکاری اخراجات کو عبوری بِل کرکے ایوانِ نمائندگان بھیج دیا،منظوری کے بعد ٹرمپ دستخط کریں گے
واشنگٹن()بجٹ منظورنہ ہونے پر امریکی حکومت ایک مرتبہ پھر شٹ ڈاﺅن ہوگئی ،ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی حکومت شٹ ڈاﺅن ہوئی ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کو درکار فنڈز کی منظوری کی ڈیڈلائن جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ختم ہورہی تھی لیکن سینیٹ میں مجوزہ بجٹ پر ہونے والی بحث کے دوران ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال کے اعتراض کے باعث بجٹ 12 بجے شب کی ڈیڈ لائن سے قبل منظور نہ ہوسکاتاہم امریکی سینیٹ نے رات گئے سرکاری اخراجات کو عبوری بِل کرلیا جس کے بعد اب اسے ایوانِ نمائندگان بھیجا جائے گا،لیکن ڈیڈلائن گزرنے کے باعث حکومت کا شٹ ڈاﺅن شب 12 بجے کے بعد شروع ہوچکا ہے جو اب بِل کی ایوانِ نمائندگان سے منظور اور اس پر صدر کے دستخط کے بعد ہی ختم ہوگا،امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اور ری پبلکن رہنماو?ں کے درمیان بدھ کو مجوزہ بجٹ تجاویز پر اتفاقِ رائے ہوگیا تھا جس کے تحت امریکی حکومت کو آئندہ دو سال کے لیے دفاعی اور دیگر مدات میں اخراجات کے لیے درکار فنڈز فراہم کیے جانے تھے۔اتفاقِ رائے کی روشنی میں تیار کی جانے والی بجٹ تجاویز جمعرات کو سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کی گئیں لیکن سینیٹر رینڈ پال کے اعتراض کے باعث بجٹ تجاویز منظور نہ کی جاسکیں۔امریکی سینیٹ کے قوانین کے مطابق ایوان کا کوئی بھی رکن جتنی دیر چاہے تقریر کرسکتا ہے اور اسے تقریر سے روکنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ ایوان کے 60 فی صد ارکان اس کی تقریر ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیں۔کسی بھی امریکی سینیٹر کو کسی بھی معاملے یا مجوزہ قانون پر ہونے والی ووٹنگ پر اعتراض اٹھانے کا بھی حق ہے جس کے بعد وہ معاملہ طویل اور پیچیدہ تاخیری حربوں کا شکار ہوجاتا ہے۔

Comments
Loading...