Official Web

احسان مانی کو مالیاتی وانتظامی امور میں یکساں مہارت حاصل

لاہور:  نئے چیئرمین پی سی بی احسان مانی کو مالیاتی اور انتظامی امور میں یکساں مہارت حاصل ہے۔

نئے چیئرمین پی سی بی احسان مانی 23مارچ 1945 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے، جڑواں شہروں میں تعلیمی مصروفیات کے ساتھ وہ مقامی کلب میں بطور آل راؤنڈر کھیلتے رہے،گریجویشن مکمل کے بعد اعلیٰ تعلیم کیلیے انگلینڈ گئے اور 1960 کے آخر تک وہاں مقیم رہے۔

احسان مانی پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں ،کرکٹ کے انتظامی امور میں انھوں نے 1989 میں قدم رکھا جب آئی سی سی میں پاکستان کے نمائندے منتخب ہوئے، ورلڈکپ 1996کے انعقاد میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔

احسان مانی میگا ایونٹ کیلیے آئی سی سی کی ایڈوائزری کمیٹی میں پاکستان کے نمائندے تھے،اسی برس انھیں کونسل کی فنانس اور مارکیٹنگ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا، جون 2002 میں یہ عہدہ تحلیل کردیا گیا،وہ عالمی گورننگ باڈی کے نائب صدر بنے اور مختلف کمیٹیوں میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔

بھارت کے جگموہن ڈالمیا اور احسان مانی نے کروڑوں افرادکے پسندیدہ کھیل کرکٹ میں پیسہ لانے میں اہم کردار ادا کیا، قائدانہ صلاحیتوں اور مالیاتی امور میں مہارت کی بدولت مانی جون 2003 میں آئی سی سی کے صدر بن گئے اور 2006 تک اس عہدے پر برقرار رہے۔

احسان مانی نے متعدد بڑے بینکوں کے اہم عہدوں پر فرائض انجام دیے اور اس وقت بھی برطانیہ کے متعدد بینکوں اور ریئل اسٹیٹ کمپنیوں کے بورڈ آف گورنرز میں شامل ہیں، احسان مانی شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن اور گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔

آئی سی سی کی صدارت چھوڑنے کے باوجود وہ کرکٹ کے امور میں پی سی بی کی معاونت کرتے رہے،انھوں نے عالمی سطح پر کرکٹ پر اجارہ داری کیلیے بنائے گئے ’’بگ تھری‘‘ کی مخالفت کا سلسلہ جاری رکھا، وہ پی سی بی میں ذکا اشرف اور نجم سیٹھی کے درمیان اقتدار کیلیے رسہ کشی کے مخالف تھے، مالیاتی اور انتظامی امور میں بھی یکساں مہارت رکھنے والے احسان مانی پی سی بی اور پی ایس ایل میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

Comments
Loading...