وزارت انسانی حقوق کی اہم پوسٹوں پرریٹائرڈافسران تعینات،وزیراعظم بے خبر

سیکرٹری رابعہ جویری نے وزیراعظم کی منظوری کے بغیر ریٹائرڈ شخص نورالہٰی کوایک سال سے ایس اوجنرل کے عہدے پرتعینات کررکھاہے
نورالہی ایف آئی اے میں مبینہ کرپشن کی وجہ سے سزا کاٹ چکا ہے ،میڈیاکے نوٹس لینے کے بعد غیرقانونی تعینات افسران میںکھلبلی مچ گئی
اسلام آباد (شمیم محمود) وزارت انسانی حقوق کے اہم عہدوں پر ریٹائرڈ افسران کو تعینات کرنے کا انکشاف ہوا ہے، اہم عہدوں پر تقرریاں کرتے وقت وزیر اعظم پاکستان کو بھی حقائق سے بے خبر رکھا گیا ہے۔میڈیا کے نوٹس لینے کے بعد غیر قانونی طور پر تعینات افسران میں کھلبلی مچ گئی ہے جبکہ وزارت میں موجود دیگر افسران نے کاروائی مطالبہ کردیا ہے۔وزارت انسانی حقوق میں افسر شاہی کا راج، سیکرٹری رابعہ جویری آغا نے وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر وزارت میں ریٹارڈ شخص نورالہی کوایک سال سے اہم عہدے پر تعینات کررکھا ہے، رابعہ جویری آغا نے منظور نظر نورالہی کو ریٹارمنٹ کے بعد نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیومین رائٹس (این،آئی، ایچ، آر) کیلئے ایڈمن اینڈ فنانس کے عہدے پر تعینات کرکے وزارت میں ایس ، او جنرل کے اہم عہدے پر تعینات کررکھا ہے، جبکہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے این، آئی، آر، ایچ کے اندر بھرتیوں پر پابند ی عائد کررکھی ہے، جبکہ وزارت میں موجود دیگر افسران نے نور الہی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسکی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت انسانی حقوق میں انسانی حقوق میں میرٹ ، سنیارٹی اور سروسز رول کی بدترین خلاف ورزی کرتے ہوئے میٹرک پاس نااہل شخص کو ایس ، او جنرل کی اہم عہدے پر تعینات کررکھا ہے ، میرٹ کی خلاف ورزی کرنے پر سینئر افسران نے مطالبہ کیا ہے کہ نورالہی کے ذریعے سیکرٹری رابعہ جویری آغا ، جوائنٹ سیکرٹری حمیراعظم ، ڈپٹی سیکرٹری خلیل اعوان سمیت دیگر افسرا ن کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کی جائیں۔ وزارت انسانی حقوق میں انتہاہی اہم ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سیکرٹری رابعہ جویری آغا جوائنٹ سیکرٹری حمیرا اعظم اور ڈی ، جی ڈیویلپمنٹ کامران اعظم خان مبینہ طور پر نورالہی کو ایس ، او جنرل تعینات کرکے کرپشن کا بازار گرم کررکھا ہے جس کی تحقیقات کی جائیں۔ سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری کی جانب سے اقربا پروری سے تنگ دیگر سینئر افسران نے آن لائن کو بتایا کہ وزارت میں موجود افسران کا استحصال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے افسران ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں، چند افسران نے وزارت کو کرپشن کا گڑھ بنارکھا ہے اور اپنے مفادات کی خاطر باقی ملازمین کا جینا حرام کررکھا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس، او جنرل کی پوزیشن پر تعینات نورالہی اس سے قبل ایف ، آئی ، اے میں مبینہ کرپشن کی وجہ سے سزا کاٹ چکا ہے اور اسکی سروس بک پر مالی معاملات میںخورد برد کی وجہ سے ڈیل نہ کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں جبکہ سینئر بیوکریسی نے تمام ترقوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے اہم عہدے پر تعینات کررکھا ہے جو مبینہ طور پر انکے لئے مال اکٹھا کرتاہے۔ واضع رہے کہ رولز کے مطابق کسی ریٹائرڈ شخص کو ایس ، او جنرل کی تعیناتی کیلئے اسٹبلشمنٹ ڈویژ ن کو چھ ماہ پہلے سمری ارسال کرنا ہوتی ہے، اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژ ن اس سمری کو ضروری سفارشات کے ساتھ وزارت خزانہ کے ذریعے وزیر اعظم کو ارسال کرتا ہے، جس کی منظور ی کے بعد اسے تعینات کیا جاسکتا ہے، جبکہ وزارت انسانی کی سینئر بیورکریسی نے خود نا جائز اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نورالہی کو ذاتی مفادات کی خاطر تعینات کررکھا ہے، دوسری صورت میں اس عہدے کیلئے سی، ایس پی افسران کوتعینات کیا جاتا ہے ،

Comments
Loading...