2023ءتک کیلئے نئی تجارتی پالیسی کیلئے مشاورت کا آغاز ،چھوٹے ،درمیانے درجے کی صنعتوں ،کاروباری خواتین کو زیادہ مراعات دینگے ‘ یونس ڈھاگہ

گزشتہ تین سالوں سے برآمدات پر دباﺅ ہے لیکن حکومت کے اقدامات سے گزشتہ چند ماہ میں برآمدات بڑھیں ‘ وفاقی سیکرٹری تجارت
پانچ سالوں میں برآمدات پچیس ارب ڈالر سے کم ہو کر بیس ارب ڈالر پر آگئی ،برآمدات بڑھانے کیلئے پیداوار ی لاگت کم کی جائے ‘ کریم عزیز ملک
اسلام آباد /لاہور (ا ین این آئی) وفاقی سیکرٹری تجارت یونس ڈھاگہ نے کہا ہے کہ 2018ءسے 2023ءتک کیلئے نئی تجارتی پالیسی کیلئے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروباری خواتین کو زیادہ مراعات دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آئندہ پانچ سالوں کیلئے سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک پر شراکت داروں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے دوران کیا ۔ یونس ڈھاگہ نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے برآمدات پر دباﺅ ہے لیکن حکومت کے اقدامات سے گزشتہ چند ماہ میں برآمدات بڑھیں ،مذاکرات سے چین اور انڈونیشیا سے مراعات حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ٹریڈ پالیسی پانچ سالوں کیلئے ہوگی اور نئی پالیسی میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروباری خواتین کو زیادہ مراعات دیں گے۔ اس موقع پر نائب صدر ایف پی سی سی آئی کریم عزیز ملک نے کہا کہ پانچ سالوں میں برآمدات پچیس ارب ڈالر سے کم ہو کر بیس ارب ڈالر پر آگئی ،برآمدات بڑھانے کیلئے پیداوار ی لاگت کم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کا ٹیرف خطے کے ممالک سے 22فیصد زیادہ ہے ،برآمدی شعبے پر ٹیکس کم کیے جائیں ۔ایران کے ساتھ برآمدات بڑھا سکتے ہیں کیونکہ بینک ایران کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں ،چین اور ملائیشیا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے باعث تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا ۔ کریم عزیز ملک نے کہا کہ جی ایس پی پلس درجہ کیلئے عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کیا جائے ،سی پیک پر کاروباری برادری کے تحفظات دور کیے جائیں ،نئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون نجی شعبے کے حوالے کیے جائیں ۔ملکی تجارتی اداروں کو سی پیک پر معلومات میں شریک رکھا جائے ۔

Comments
Loading...