((انتخابی اصلاحات کیس))کیاکسی چورکوبھی پارٹی سربراہ بنایاجاسکتاہے؟چیف جسٹس کااستفسار((نااہلی مدت تعین کیس کافیصلہ محفوظ))

((انتخابی اصلاحات کیس))کیاکسی چورکوبھی پارٹی سربراہ بنایاجاسکتاہے؟چیف جسٹس کااستفسار((نااہلی مدت تعین کیس کافیصلہ محفوظ))
ڈکلیئریشن وقت کیساتھ ازخودختم ہوسکتاہے؟ جسٹس عظمت سعید، نہیں ہوسکتا،اٹارنی جنرل،نااہلی کاداغ مجازفورم یامجازعدالت ہی ختم کرسکتی ہے ،داغ ختم ہوئے بغیرنااہلی تاحیات ہی رہے گی،جسٹس اعجازالاحسن کے ریمارکس

نوازشریف پارٹی سربراہ نہیں رہے تو سینیٹ ٹکٹس کاکیاہوگا، جسٹس ثاقب نثارکااستفسار،اٹارنی جنرل آفس سے14ویںترمیم کاتمام ریکارڈ ، الیکشن کمیشن سے سینیٹ امیدواروں کے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کافارم طلب
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آفس سے 14ویں ترمیم کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا ہے کہ نواز شریف پارٹی سربراہ نہیں رہے تو سینیٹ ٹکٹس کا کیا ہوگا؟ ¾14ویں ترمیم کے وقت دونوں ہاو¿سز کی پارلیمنٹری بحث عدالت میں پیش کریں۔ بدھ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔عدالت نے 1997 میں ہونے والی 14ویں ترمیم کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آفس کو حکم دیا کہ 14ویں ترمیم کے وقت دونوں ہاو¿سز کی پارلیمنٹری بحث عدالت میں پیش کریں۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ بتانا ہے کہ 14ویں ترمیم کے وقت کون حکومت میں تھا؟ ترمیم کتنے وقت میں پاس ہوئی اور اس میں کیا بحث ہوئی، اس حوالے سے تمام ریکارڈ پیش کیا جائے۔سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے وکیل سلمان اکرم راجا نے پارٹی سربراہی کی اہلیت سے متعلق دلائل دئیے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 19 اور 17 پارٹی ممبرز کو لیڈر کے چناو¿ کی آزادی دیتے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا چوری کرتے پکڑا گیا شخص بھی پارٹی سربراہ ہو سکتا ہے جس پر مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے کہا کہ جراب چوری کرنے والا بھی پارٹی سربراہ بن سکتا ہے ¾ سربراہ کا انتخاب پارٹی کی صوابدید ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پارلیمانی جمہوریت میں پارٹی سربراہ کا کردار اہم ہوتا ہے ¾ پارٹی سربراہ براہ راست گورننس پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جس پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے باہر بیٹھا شخص کوئی ہدایات نہیں دے سکتا اور پارلیمانی پارٹی سیاسی جماعت کے آئین کی پابند نہیں ہوتی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والا رکن اسمبلی ہی پارلیمانی پارٹی کے کہنے پر نااہل ہوگا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی بھی تو پارٹی سربراہ ہی بناتا ہے۔وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو ہدایات پارلیمانی پارٹی دیتی ہے سربراہ نہیں جبکہ آئین میں نااہلی کے حوالے سے عام طریقہ کار درج ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سربراہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کا پابند نہیں ہوتا اور اصل فیصلہ تو سربراہ نے ہی کرنا ہوتا ہے جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی سیاسی جماعت کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیاسی جماعت سربراہ کے گرد گھومتی ہے اور وہ اراکین پارلیمنٹ کو کنٹرول کرتا ہے جس پر مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ کسی رکن کو براہ راست نااہل نہیں کرسکتا اور الیکشن کمیشن نے نااہلی کے معاملے کا جائزہ میرٹ پر لینا ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ دیکھنا ہے پارٹی ٹکٹ کون جاری کرتا ہے اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن سے ریکارڈ منگوایا ہے، دیکھنا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ٹکٹ کس نے جاری کیے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر یہ ڈکلیئریشن ہوجاتا ہے کہ نواز شریف پارٹی سربراہ نہیں رہے تو جو سینیٹ کے ٹکٹ دئیے ان کا کیا ہوگا اور کیا ڈکلیئریشن کی صورت میں واک اوور ہوگا۔عدالت نے نمائندہ الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی جانب سے سینیٹ کے لئے امیدواروں کے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا فارم ہمیں لاکر دکھائیں۔انتخابی اصلاحات ایکٹ کی سماعت میں مسلم لیگ (ن) کے وکیل کے دلائل کے بعد عدالت نے مزید سماعت (آج) جمعرات تک کےلئے ملتوی کردی۔
چیف جسٹس
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کےلئے 13 درخواستوں کی سماعت کی۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نااہل شخص ضمنی یا آئندہ الیکشن لڑ سکتا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو ہر کیس میں علیحدہ علیحدہ نااہلی کی مدت کا تعین کرنا ہوگا۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ کیا ڈکلیئریشن وقت کے ساتھ ازخود ختم ہوسکتا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ڈکلیئریشن ازخود ختم نہیں ہوسکتا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ جرم کا ارتکاب ہوا ہو تو کیا دفعہ تا حیات ہی لگی رہے گی؟ کیا اس کےلئے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں؟۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ نااہلی کا داغ مجاز فورم یا مجاز عدالت ہی ختم کرسکتی ہے ¾ نااہلی کا داغ ختم ہوئے بغیر نااہلی تاحیات ہی رہے گی ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ جب مدت کا تعین نہیں ہے تو کیا اس صورت میں نااہلی تاحیات ہوتی ہے، جس پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ کو جائزہ لینا ہوگا۔اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائے گا۔گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف پر عدالت سے غیر حاضر ہونے پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کردیاتھا ۔چیف جسٹس نے اشتر اوصاف پر عدالت میں پیش نہ ہونے پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھاتاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کی استدعا پر عائد جرمانے کا حکم واپس لے لیا گیا، اور انہیں اسی روز ساڑھے 4 بجے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔عدالتی حکم کے باوجود وہ پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے 20 ہزار روپے کا جزمانہ عائد کیا۔خیال رہے کہ رواں ماہ 26 جنوری کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نا اہل ہونے والے اراکینِ پارلیمنٹ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔سپریم کورٹ نے سابق وزیرِاعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو منگل 30 جنوری کو ذاتی حیثیت میں یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کے نوٹسز جاری کیے تھے۔سپریم کورٹ نے 31 جنوری کو ہونے والی سماعت میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کے معاملے پر عوامی نوٹس جاری کردیا جس کے مطابق آرٹیکل 62 ون ایف متاثر شخص عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔31 جنوری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کے معاملے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل کو کیس میں تیاری کرنے کےلئے ایک ہفتے کی مہلت دے دی تھی۔8 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ آرٹیکل 62 ون ایف میں ابہام ہے اور اس کی تشریح کرنا مشکل مرحلہ ہے۔

Comments
Loading...