پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیجنڈ ادا کار آغا طالش کی 20ویں برسی پیرکو منائی جائےگی

فیصل آباد۔18 فروری(اے پی پی )پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیجنڈ ادا کار آغا طالش کی 20ویں برسی (آج) پیر کوانتہائی عقیدت و احترام سے منائی جائےگی۔ آغا طالش کا اصل نام آغا علی عباس قز لباش وہ مشرقی بھارتی شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیم ہند سے قبل ہی انہیں فلموں میں کام کرنے کا شوق ممبئی لے گیا۔مرحوم کو شعر و ادب سے بھی گہرا شغف تھا۔ ان کی پہلی فلم "سرائے کے باہر” تھی جس کے مصنف کرشن چند تھے۔ آغا طالش نے تقسیم ہند کے بعد پہلے پشاور اور پھر لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔وہ پشاور ریڈیو سے بھی منسلک رہے ۔لاہور میں ان کی پہلی پنجابی فلم ”نتھ“ تھی جس میں اداکارہ حفیظ جہاں ، صادق علی پرنس اور ادا کار ظریف نے بھی کام کیا جو1952ءمیں ریلیز ہوئی۔اس کے بعد وہ 1955ءمیں” جھیل کنارے ” اور پھر 1956ءمیں ” دیا ر حبیب ” میں اداکارہ ےاسمین شوکت کے ہمراہ ہیرو آئے۔مرحوم نے 40برس سے زائد فلم نگری میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ان کی ےاد گار فلموں میں فرنگی، شہید، نیند، زرق، عجب خاں، لاکھوں میں ایک، بہاریں پھر بھی آئیں گی،کٹہرا، تیرے عشق نچایا، امراﺅ جان ادا، جبرو ، سات لاکھ ، دھی رانی، چھوٹی بیگم ، توبہ ، ان داتا ، روٹی ، بھریا میلہ ، سچائی ، باجی ، بغاوت اور آخری مجرا کے علاوہ بے شمار ےاد گار فلمیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے 400سے زائد فلموں میں کام کیا۔وہ زندگی کے آخری ایام میں سانس کی تکلیف اور جگر کے عارضہ میں مبتلا ہونے کے باعث 19فروری 1998ءکو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔

Comments
Loading...